حدیث نمبر: 6240
٦٢٤٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا داود بن عبد الرحمن قال: حدثني عمرو بن يحيى المازني أن رجلًا حد في (فرية) (١) فكان يؤم أصحابه، فسألوا عمر بن عبد العزيز فقال: كيف رأيتموه (فقالوا) (٢): قد كان منه ما كان فأثنوا عليه خيرًا فأمره أن يؤمهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن یحییٰ کہتے ہیں ایک آدمی کو غلط الزام لگانے کے جرم میں حد جاری ہوئی تھی وہ اپنے لوگوں کو نماز پڑھایا کرتا تھا۔ لوگوں نے حضرت عمر بن عبد العزیز سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے ان سے پوچھا کہ تم اسے کیسا پاتے ہو ؟ لوگوں نے کہا اس کا جرم اب نہیں رہا۔ لوگوں نے اس کی تعریف کی۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے اس کی امامت کو جاری رکھنے کا حکم دیا۔