حدیث نمبر: 6228
٦٢٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن برد أبي (العلاء) (١) عن الزهري، قال: كان أئمة من ذلك العمل، يعني (من) (٢) أولاد الزنا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ ولد الزنا امام ہوا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 6229
٦٢٢٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن حماد عن إبراهيم، قال: لا بأس أن يؤم ولد الزنا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ولد الزنا کی امامت میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 6230
٦٢٣٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن زهير بن أبي ثابت العبسي قال: سمعت الشعبي يقول: تجوز شهادته ويؤم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ ولد الزنا کی گواہی اور امامت جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 6231
٦٢٣١ - حدثنا هشيم عن مطرف عن الشعبي أنه سئل عن إمامة ولد الزنا فقال: إن لنا (إمامًا) (١) ما (نعرف) (٢) له (أبًا) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ مجھ سے ولد الزنا کی امامت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارا ایک امام ہے جس کے باپ کا علم نہیں۔
حدیث نمبر: 6232
٦٢٣٢ - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن الأعمش عن إبراهيم قال: لا بأس أن يؤم ولد الزنا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ولد الزنا کی امامت میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 6233
٦٢٣٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا أبو (حنيفة) (١) قال: سألت عطاء عن ولد الزنا يؤم القوم فقال: لا بأس به، أليس منهم من هو أكثر صومًا وصلاة منا.
مولانا محمد اویس سرور
ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے ولد الزنا کی امامت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کچھ حرج نہیں، کیا ان میں کوئی ایسا شخص نہیں ہوسکتا جو ہم سے زیادہ نمازی اور ہم سے زیادہ روزے رکھنے والا ہو۔
حدیث نمبر: 6234
٦٢٣٤ - حدثنا ابن فضيل عن مطرف عن حماد عن إبراهيم، قال: لا بأس أن يؤم ولد الزنا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ولد الزنا کی امامت میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 6235
٦٢٣٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن يونس عن الحسن، قال: ولد الزنا وغيره سواء.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ ولد الزنا دوسروں کے برابر ہیں۔
حدیث نمبر: 6236
٦٢٣٦ - حدثنا زيد بن الحباب عن الربيع بن المنذر الثوري، قال: سألت الحارث العكلي عن ولد الزنا يؤم قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن منذر فرماتے ہیں کہ میں نے حارث عکلی سے ولد الزنا کی امامت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جائز ہے۔
حدیث نمبر: 6237
٦٢٣٧ - حدثنا وكيع قال: (نا) (١) هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة أنها كانت ⦗٣٢١⦘ إذا سئلت عن ولد الزنا قالت: ليس عليه من خطيئة أبويه شئ ﴿((٢) لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ولد الزنا کی امامت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کے والدین کے گناہ کا وبال اس پر نہیں ہوگا۔ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کے حصہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔