کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کیا آدمی نماز میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 6180
٦١٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن مغيرة قال: قلت لإبراهيم: أسمع الرجل وأنا أصلي يقول: ﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ﴾ [الأحزاب: ٥٦]، أأصلي عليه؟ قال: نعم إن شئت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے پوچھا کہ اگر میں دوران نماز کسی آدمی کو {إِنَّ اللَّہَ وَمَلاَئِکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ } کی تلاوت کرتے سنوں تو کیا میں درود پڑھوں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں، اگر تم چاہو تو پڑھ سکتے ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6180
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6180، ترقيم محمد عوامة 6096)
حدیث نمبر: 6181
٦١٨١ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن الحسن قال: إذا قال الرجل في الصلاة: ﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ [يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا (صَلُّوا عَلَيْهِ) (١)] (٢)﴾ (٣)، فليصل عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب آدمی نماز میں {إِنَّ اللَّہَ وَمَلاَئِکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ ، یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوا تَسْلِیمَا } پڑھے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے۔ حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی قراءت کے دوران کسی اور کلام کو بیچ میں نہ لائیں گے بلکہ قرآن کی تلاوت من وعن جاری رکھیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6181
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6181، ترقيم محمد عوامة 6097)
حدیث نمبر: 6182
٦١٨٢ - قال: وقال ابن سيرين: كانوا إذا قرؤوا القرآن لم يخلطوا به ما ليس منه ويمضون كما هم.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6182
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6182، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 6183
٦١٨٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن عامر قال: قلت (له) (١): الرجل يمر بهذه الآية (في الصلاة) (٢): ﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ﴾ أيصلي عليه؟ قال: يمر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عامر سے پوچھا کہ اگر کوئی آدمی نماز میں {إِنَّ اللَّہَ وَمَلاَئِکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ } کی تلاوت کرے تو درود پڑھے یا گذر جائے ؟ انہوں نے فرمایا گذر جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6183
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6183، ترقيم محمد عوامة 6098)