حدیث نمبر: 6140
٦١٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) وكيع عن ابن أبي ذئب عن عبد الرحمن بن مهران عن عبد الرحمن بن سعد عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الأبعد فالأبعد من المسجد أعظم أجرًا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو مسجد سے جتنا دور ہوگا اس کا اجر اتنا ہی زیادہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 6141
٦١٤١ - حدثنا وكيع عن ابن أبي ذئب عن الأسود بن العلاء بن (جارية) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من حين يخرج أحدكم (من مسجده إلى بيته) (٢) فرجل تكتب حسنة والأخرى تحط سيئة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود بن علاء کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مسجد کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلتا ہے تو ہر قدم پر اس کے لئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ایک گناہ صاف ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 6142
٦١٤٢ - حدثنا وكيع عن موسى بن عبيدة عن أخيه عن جابر قال: كانت منازلنا قاصية فأردنا أن نتقرب من مسجد رسول اللَّه ﷺ فذكرنا ذلك له فقال: "لا تفعلوها إئتوها كما كنتم، ما من مؤمن يتوضأ فيحسن الوضوء ثم يخرج إلى المسجد إلا كتب اللَّه له بكل خطوة حسنة وحط (عنه) (١) بها سيئة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ہمارے گھر مسجد سے دور تھے، ہم نے ارادہ کیا کہ ہم مسجد نبوی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوجائیں۔ جب ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ فرمایا کہ ایسا نہ کرو، تم جہاں رہتے ہو وہیں سے آؤ، جب بھی کوئی مومن شخص اچھی طرح وضو کرے اور پھر مسجد کے ارادے سے نکلے تو ہر قدم پر اس کے لئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 6143
٦١٤٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أنا) (١) حميد الطويل عن أنس بن مالك أن بني سلمة أرادوا أن يتحولوا (عن) (٢) منازلهم (فيبنوا) (٣) قريبًا من المسجد فكره رسول اللَّه ﷺ أن تعرى المدينة فقال: "يا بني سلمة (ألا تحتسبون آثاركم؟) (٤) " قالوا: بلى، فثبتوا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ اپنے علاقے کو چھوڑ کر مسجد کے قریب گھر بنالیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کو ناپسند کیا کہ مدینہ گنجان ہوجائے اور فرمایا کہ اے بنو سلمہ ! کیا تم اپنے قدموں پر ثواب کا یقین نہیں رکھتے ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ پھر انہوں نے اپنی جگہ ہی رہنے کا فیصلہ کرلیا۔
حدیث نمبر: 6144
٦١٤٤ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن أن بني سلمة كانت دورهم قاصية عن المسجد فهموا أن يتحولوا قريبًا من المسجد فيشهدون الصلاة مع النبي ﷺ[فقال (لهم) (١) النبي ﷺ] (٢): "ألا تحتسبون آثاركم يا بني سلمة؟ "، فثبتوا في ديارهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ بنو سلمہ کے گھر مسجد سے دور تھے، انہوں نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ سکیں۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اے بنو سلمہ ! کیا تم اپنے نشانات قدم پر ثواب نہیں لینا چاہتے ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ؟ پھر وہ اپنے انہی گھروں میں ٹھہر گئے۔
حدیث نمبر: 6145
٦١٤٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن التيمي عن أبي عثمان النهدي عن أبي بن كعب قال: كان رجل بالمدينة ما أعلم أحدًا من أهل المدينة ممن يصلي (١) القبلة أبعد منزلًا من المسجد منه، فكان يشهد الصلاة مع رسول اللَّه ﷺ فقيل (له) (٢): (لو) (٣) (ابتعت) (٤) حمارًا تركبه في الرمضاء والظلمة، فقال: واللَّه ما يسرني أن (منزلي) (٥) (بلزق) (٦) المسجد فذكر ذلك للنبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه، (كيما) (٧) يكتب خطاي (وإقبالي) (٨) وإدباري ورجوعي إلى أهلي، فقال رسول اللَّه ﷺ: (أنطاك) (٩) اللَّه ⦗٣٠٣⦘ ذلك وأعطاك ما احتسبت (أجمع) (١٠) " أو كما قال رسول اللَّه ﷺ (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ مدینہ میں ایک آدمی تھا اور میرے خیال میں قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے والوں میں مسجد سے سب سے زیادہ دور گھر اسی کا تھا۔ کسی نے اس سے کہا کہ تم گدھا لے لو تاکہ بارش اور اندھیرے وغیرہ میں اس پر سوار ہو کر مسجد آ جایا کرو۔ اس پر اس نے کہا کہ مجھے یہ بات بالکل پسند نہیں ہے کہ میرا گھر مسجد کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ اس بات کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا گیا اور اس نے بھی حاضر خدمت ہو کر عرض کیا کہ کیا مسجد کی طرف میرے آنے جانے والوں قدموں کو بھی میرے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے تمہیں یہ بھی عطا کردیا اور اس کے علاوہ جس عمل میں تم نے ثواب کی امید رکھی اللہ نے تمہیں وہ بھی عطا کردیا۔
حدیث نمبر: 6146
٦١٤٦ - حدثنا علي بن (هاشم) (١) قال: سألت ابن أبي ليلى، فقلت بنو سلمة أرادوا أن يتحولوا قريبًا من المسجد فذكر عن أبي الزبير عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: (فإن بكل خطوة حسنة) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ جب بنو سلمہ نے اپنے مکانات مسجد کے قریب کرنے کا ارادہ کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ہر قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔