حدیث نمبر: 6084
٦٠٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير (بن) (١) عبد الحميد عن قابوس عن أبيه (قال) (٢): أرسل أبي إلى عائشة: أي صلاة كانت أحب إلى رسول اللَّه ﷺ أن يواظب عليها؟ قالت: كان يصلي أربعًا قبل الظهر يطيل (فيهن) (٣) القيام ويحسن ⦗٢٨٦⦘ فيهن الركوع والسجود (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ایک صاحب نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نام سوال بھیجا کہ کس نماز پر ہمیشگی اختیار کرنا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ پسند تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر سے پہلے کی چار رکعتوں کو باقاعدگی سے اسی طرح ادا فرماتے کہ ان میں قیام کو لمبا فرماتے اور خوب اچھے طریقے سے رکوع و سجدہ فرماتے ۔
حدیث نمبر: 6085
٦٠٨٥ - حدثنا جرير عن عبد العزيز بن رفيع قال: رأيت ابن عمر يصلي أربعًا قبل الظهر يطيلهن (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ظہر سے پہلے کی چار رکعتوں کو لمبا کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 6086
٦٠٨٦ - حدثنا أبو الأحوص عن عبد العزيز بن رفيع عن ابن عمر مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 6087
٦٠٨٧ - حدثنا وكيع عن محمد بن قيس عن (أبي) (١) عون الثقفي أن الحسن بن علي كان يصلي أربعًا قبل الظهر يطيل فيهن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ ظہر سے پہلے کی چار رکعتوں کو لمبا کر کے پڑھا کرتے تھے۔ حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ اگر وہ تیز قرائت کرتے تھے تو طوال سے پڑھتے تھے اور اگر آہستہ قرائت کرتے تھے تو مئین سے پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 6088
٦٠٨٨ - قال (أبو) (١) عون: إن كان خفيف القراءة فمن الطوّل وإن كان بطيء القراءة (٢) فمن المئين (٣).
حدیث نمبر: 6089
٦٠٨٩ - حدثنا (ابن أبي غنية) (١) عن الصلت بن بهرام عمن حدثه (عن) (٢) ⦗٢٨٧⦘ حذيفة بن أسيد قال: رأيت عليًا إذا زالت الشمس صلى أربعًا طوالًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن اسید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے سورج کے زائل ہونے کے بعد چار لمبی رکعات ادا فرمائیں۔
حدیث نمبر: 6090
٦٠٩٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن عبد الرحمن بن بديل قال: حدثني (أبطن) (١) الناس بعبد اللَّه بن مسعود أنه كان يصلي في بيته إذا زالت الشمس أربع ركعات يطيل فيهن (وإذا) (٢) تجاوب المؤذنون خرج فجلس في المسجد حتى تقام الصلاة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
عبد الرحمن بن بدیل فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت عبد اللہ کے احوال کے سب سے زیادہ واقف شخص نے بتایا ہے کہ وہ زوال شمس کے بعد اپنے گھر میں چار لمبی رکعات ادا فرماتے تھے، پھر جب مؤذن اذان دیتے تو وہ باہر تشریف لے آتے اور مسجد میں نماز کے کھڑے ہونے تک بیٹھے رہتے۔
حدیث نمبر: 6091
٦٠٩١ - حدثنا محمد بن عبيد عن الأعمش عن المسيب بن رافع عن رجل أن عمر قرأ في الأربع قبل الظهر بقاف (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر نے ظہر سے پہلے کی چار رکعتوں میں سورة ق کی تلاوت فرمائی۔