٥٦١٣ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا معتمر عن أبيه عن الحسن عن قيس بن عباد.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جس نے جمعہ کی نماز مسجد میں نہیں پڑھی اس کی نماز نہیں ہوئی۔
٥٦١٤ - وعن زرارة بن أوفى عن أبي هريرة أنهما قالا: من لم يصل في المسجد فلا صلاة له (١).
٥٦١٥ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن (مغيرة عن إبراهيم) (١) قال، لا بأس بالصلاة يوم الجمعة في [السدة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جمعہ کی نماز برآمدہ میں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
٥٦١٦ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن هشام عن الحسن قال: لا بأس بالصلاة (يوم الجمعة) (١) في] (٢) الرحبة، وإن كان يقدر أن يدخل فلا صلاة له.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جمعہ کی نماز صحن میں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، اور اگر اندر داخل ہونے میں کوئی مانع نہ ہو تو نماز نہیں ہوگی۔
٥٦١٧ - حدثنا أبو معاوية عن الشيباني قال: رأيت عروة بن المغيرة بن شعبة صلى في السدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شیبانی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عروہ بن مغیرہ بن شعبہ کو دیکھا کہ انہوں نے برآمدے میں نماز پڑھائی۔
٥٦١٨ - حدثنا محمد بن بشر (وابن نمير قالا) (١): حدثنا سعيد عن قتادة عن زرارة بن أوفى أن أبا هريرة أتى على رجال جلوس في الرحبة فقال: ادخلوا المسجد فإنه لا جمعة إلا في المسجد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زرارہ بن اوفی فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ مسجد کے برآمدے میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپ نے ان سے فرمایا کہ مسجد میں چلے جاؤ کیونکہ جمعہ صرف مسجد میں ہی ہوتا ہے۔
٥٦١٩ - حدثنا محمد بن بشر قال حدثنا سعيد عن قتادة عن الحسن أنه قال: لا جمعة لمن صلى في الرحبة إلا أن لا يقدر على الدخول.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اندر جانے پر قادر ہو اور اندر نہ جائے اور برآمدے میں نماز پڑھ لے تو اس کی نماز نہیں ہوئی۔