کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات اس بات کو مستحب قرار دیتے ہیں کہ جمعہ کی نماز پڑھنے کے بعد جگہ بدل لی جائے
حدیث نمبر: 5533
٥٥٣٣ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن أبي قلابة قال: صليت معه الجمعة فلما قضيت صلاتي أخذ بيدي فقام في مقامي وأقامني في مقامه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو قلابہ کے ساتھ جمعہ کی نماز ادا کی، جب میں نے نماز پوری کرلی تو انہوں نے مجھے اپنی جگہ کھڑا کردیا اور خود میری جگہ کھڑے ہوگئے۔
حدیث نمبر: 5534
٥٥٣٤ - حدثنا غندر عن هشام الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير قال: رأيت عقبة بن عبد الغافر وحسان بن بلال يوم الجمعة إذا قضى الإمام صلاته تحولا من مقامهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں کہ میں نے عقبہ بن عبد الغافر اور حسان بن بلال کو دیکھا کہ انہوں نے جمعہ کی نماز پڑھنے کے بعد اپنی جگہوں کو بدل لیا۔
حدیث نمبر: 5535
٥٥٣٥ - حدثنا غندر عن عمران بن (حدير) (١) قال حدثني دعامة (٢) بن يزيد ⦗١٥٦⦘ (العنبري) (٣) أنه صلى إلى جنب أبي مجلز في الجمعة فلما قضيت الصلاة أخذ بيدي فأقامني في مقامه الذي كان فيه (وقام) (٤) في مقامي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت دعامہ بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو مجلز کے ساتھ نماز ادا کی، جب میں نے نماز پوری کرلی تو انہوں نے مجھے اپنی جگہ کھڑا کردیا اور خود میری جگہ کھڑے ہوگئے۔
حدیث نمبر: 5536
٥٥٣٦ - حدثنا ابن مهدي عن همام عن قتادة عن حبيب قال: صليت إلى جنب صفوان بن محرز الجمعة فحوّلني إلى مكانه وتحول في مكاني.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت صفوان بن محرز کے ساتھ نماز ادا کی، نماز کے بعد انہوں نے مجھے اپنی جگہ کھڑا کردیا اور خود میری جگہ کھڑے ہوگئے۔
حدیث نمبر: 5537
٥٥٣٧ - حدثنا أبو أسامة قال حدثنا عبد الملك بن أبي (سليمان) (١) قال: حدثنا عطاء قال: رأيت ابن عمر صلى الجمعة ثم تنحّى (من) (٢) مكانه فصلى ركعتين فيهما خفة ثم تنحى من (مكانه) (٣) ذلك فصلى أربعا هي أطول من (تينك) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جمعہ کی نماز ادا کی اور پھر اپنی جگہ سے ہٹ گئے۔ پھر دو مختصر رکعتیں ادا فرمائیں۔ پھر اس جگہ سے ہٹے اور دو رکعات سے ذرا طویل چار رکعات ادا فرمائیں۔
حدیث نمبر: 5538
٥٥٣٨ - حدثنا غندر عن ابن جريج قال: أخبرني عمر بن عطاء بن أبي (الخوار) (١) أن نافع بن جبير أرسله إلى السائب ابن (٢) أخت (نمر) (٣) يسأله عن شيء رآه منه معاوية في الصلاة فقال: نعم صليت معه الجمعة في المقصورة فلما سلّم الإمام قمت في مقامي فصليت فلما دخل أرسل إليَّ وقال: لا تعد لما فعلت، إذا ⦗١٥٧⦘ صليت الجمعة فلا تصلها بصلاة حتى تكلم أو تخرج فإن رسول اللَّه ﷺ أمرنا بذلك أن لا توصل صلاة (بصلاة) (٤) حتى (نتكلم أو نخرج) (٥) (٦). [٥٧] من رخص في نصف النهار يوم الجمعة (٧)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت نافع بن جبیر نے مجھے حضرت سائب بن اخت نمر کے پاس بھیجا کہ میں ان سے اس چیز کے بارے میں سوال کروں جو انہوں نے حضرت معاویہ کی نماز میں دیکھی ہو۔ میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے ان کے ساتھ مسجد سے ملحقہ کمرے میں جمعہ کی نماز ادا کی۔ جب امام نے سلام پھیرا تو میں نے اپنی جگہ کھڑے کھڑے نماز ادا کی۔ جب وہ اندر آئے تو مجھے پیغام بھیج کر بلایا اور فرمایا کہ جو عمل تم نے آج کیا ہے وہ دوبارہ نہ کرنا۔ جب تم جمعہ کی نماز پڑھ لو تو اسی جگہ کوئی نماز اس وقت تک نہ پڑھو جب تک کلام نہ کرلو یا باہر نہ نکل جاؤ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس بات کا حکم دیا ہے کہ ہم کسی نماز کو دوسری نماز کے ساتھ بغیر کلام اور بغیر جگہ چھوڑے نہ ملائیں۔
حدیث نمبر: 5539
٥٥٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع بن الجراح عن ثور عن سليمان بن موسى عن عمرو بن العاص قال: كان يكره الصلاة نصف النهار إلا يوم الجمعة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن عاص سوائے جمعہ کے باقی نمازوں کو نصف نہار کے وقت پڑھنے کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 5540
٥٥٤٠ - حدثنا حفص عن ليث عن طاوس قال: يوم الجمعة صلاة كله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ جمعہ کا دن سارا نماز کے لئے ہے۔
حدیث نمبر: 5541
٥٥٤١ - حدثنا علي بن مسهر عن أشعث عن الحكم قال: تكره الصلاة نصف النهار إلا يوم الجمعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ نصفِ نہار کے وقت نماز مکروہ ہے، البتہ جمعہ کی نماز ہوجاتی ہے۔
حدیث نمبر: 5542
٥٥٤٢ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سألت معاوية بن قرة عن الصلاة قبل أن تزول الشمس يوم الجمعة فلم ير بها بأسا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معاویہ بن قرہ سے جمعہ کے دن زوال شمس سے پہلے نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 5543
٥٥٤٣ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) عن مبارك عن الحسن قال: تكره الصلاة نصف النهار إلا يوم الجمعة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ نصفِ نہار کے وقت نماز مکروہ ہے، البتہ جمعہ کی نماز ہوجاتی ہے۔
حدیث نمبر: 5544
٥٥٤٤ - حدثنا سفيان بن عيينة عن ابن طاوس عن أبيه قال: يوم الجمعة صلاة كله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ جمعہ کا دن سارا نماز کے لئے ہے۔
حدیث نمبر: 5545
٥٥٤٥ - حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن قال: لا بأس بالصلاة يوم الجمعة نصف النهار.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن نصفِ نہار کے وقت نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔