٥٥٤٦ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا هشيم بن بشير عن منصور عن الحسن أنه قال: النداء الأول يوم الجمعة الذي يكون عند خروج الإمام، والذي قبل ذلك محدث.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جمعہ کی اذان وہ ہے جو امام کے نکلنے کے وقت دی جائے، اگر کوئی اذان اس سے پہلے ہو تو وہ بدعت ہے۔
٥٥٤٧ - حدثنا هشيم قال أخبرنا شيخ من قريش عن نافع قال: سمعته يحدث عن ابن عمر أنه قال: الأذان يوم الجمعة الذي يكون عند خروج الإمام، والذي (قبل) (١) ذلك محدث (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جمعہ کی اذان وہ ہے جو امام کے نکلنے کے وقت دی جائے، اگر کوئی اذان اس سے پہلے ہو تو وہ بدعت ہے۔
٥٥٤٨ - حدثنا شبابة قاله حدثنا (هشام) (١) بن الغاز عن نافع عن ابن عمر قال: الأذان الأول يوم الجمعة بدعة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن پہلی اذان بدعت ہے۔
٥٥٤٩ - حدثنا هشيم عن أشعث عن الزهري قال: أول من أحدث الأذان الأول عثمان ليؤذن أهل الأسواق (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن پہلی اذان کا آغاز حضرت عثمان نے بازار والوں کو اطلاع دینے کے لئے کیا۔
٥٥٥٠ - حدثنا عباد بن العوام عن إسماعيل عن الحسن أنه حدثهم أن الأذان كان على عهد النبي ﷺ وإذا خرج فإذا فرغ من الخطبة أقيمت الصلاة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اذان اس وقت ہوتی تھی جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے لئے تشریف لاتے، جب آپ خطبہ سے فارغ ہوتے تو اقامت کہی جاتی تھی۔
٥٥٥١ - حدثنا ابن علية عن برد عن الزهري قال: كان الأذان عند خروج الإمام فأحدث أمير المؤمنين عثمان التأذينة الثالثة على الزوراء ليجتمع الناس (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ جمعہ کی اذان امام کے نکلنے کے وقت دی جاتی تھی۔ پھر حضرت عثمان امیر المؤمنین نے منارے پر ایک تیسری اذان کا آغاز کیا تاکہ لوگ جمع ہوجائیں۔
٥٥٥٢ - حدثنا وكيع قال حدثنا هشام بن الغاز قال: سألت نافعا مولى ابن عمر (عن) (١) الأذان الأول يوم الجمعة: (بدعة) (٢) فقال: قال (ابن عمر) (٣): بدعة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن غاز کہتے ہیں کہ میں نے نافع مولی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جمعہ کی اذان اول کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا کہ یہ بدعت ہے۔