٥٤٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن عمرو عن الزهري (عن) (١) سالم عن ابن عمر أن النبي ﷺ كان يصلي بعد الجمعة ركعتين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
٥٤٧٧ - حدثنا هشيم بن (بشير) (١) قال (حدثنا) يونس (بن) (٢) عبيد عن حميد بن هلال عن عمران بن حصين أنه كان يصلي بعد الجمعة ركعتين فقيل له: يا (أبا نجيد) (٣) ما يقول الناس، قال: وما يقولون، قال: يقولون: إنك تصلي ركعتين إلى الجمعة فتكون أربعا قال: فقال عمران: لأن (تختلف) (٤) (النيازك) (٥) بين أضلاعي أحب إليَّ من أن أفعل ذلك فلما (كانت) (٦) الجمعة المقبلة صلى الجمعة ثم احتبى فلم يصلّ شيئا حتى أقيمت صلاة العصر (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن ہلال کہتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ ان سے کسی نے کہا اے ابو نجید ! آپ نے کچھ سنا کہ لوگ کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے پوچھا لوگ کیا کہتے ہیں ؟ بتانے والے نے بتایا کہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عمران اس لئے دو رکعتیں پڑھتے ہیں تاکہ چار رکعتیں پوری ہوجائیں ! حضرت عمران نے فرمایا کہ میرے سینے میں پے در پے نیزوں کے وار ہوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں وہ کام کروں جو لوگ میرے بارے میں کہہ رہے ہیں۔ اس کے بعد اگلے جمعے انہوں نے جمعہ کی نماز پڑھی، پھر حبوہ بنا کر بیٹھ گئے اور عصر کی نماز تک انہوں نے کوئی نماز نہ پڑھی۔
٥٤٧٨ - حدثنا هشيم قال (أخبرنا) (١) عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن قال: قدم علينا ابن مسعود فكان يأمرنا (أن) (٢) نصلي بعد الجمعة أربعا فلما قدم علينا علي أمرنا أن نصلي ستا فأخذنا يقول علي وتركنا قول عبد اللَّه قال: (كان يصلي) (٣) ركعتين ثم أربعا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے، وہ ہمیں اس بات کا حکم دیا کرتے تھے کہ ہم جمعہ کے بعد چار رکعتیں پڑھیں۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے تو وہ ہمیں جمعہ کے بعد چھ رکعتیں پڑھنے کا حکم دیتے۔ پس ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کو لے لیا اور حضرت عبد اللہ کے قول کو چھوڑ دیا۔ وہ پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے پھر چار ۔
٥٤٧٩ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن عبد اللَّه بن حبيب قال: كان عبد اللَّه يصلي أربعا فلما قدم عليّ صلى ستا، ركعتين وأربعا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حبیب فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ جمعہ کے بعد چار رکعتیں پڑھتے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ جمعہ کے بعد چھ رکعتیں پڑھتے تھے۔ پہلے دو پھر چار۔
٥٤٨٠ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن عطاء قال: كان ابن عمر إذا صلى الجمعة صلّى بعدها ست ركعات ركعتين ثم أربعا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جمعہ کی نماز پڑھنے کے بعد چھ رکعتیں پڑھتے تھے پہلے دو اور پھر چار۔
٥٤٨١ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن أبي بكر بن أبي موسى عن أبيه أنه كان يصلي بعد الجمعة ست ركعات (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ جمعہ کے بعد چھ رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
٥٤٨٢ - حدثنا وكيع عن زكريا عن محمد بن المنتشر عن مسروق قال: كان يصلي بعد الجمعة ستا: ركعتين وأربعا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق جمعہ کے بعد چھ رکعتیں پڑھا کرتے تھے، پہلے دو پھر چار۔
٥٤٨٣ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن منصور عن إبراهيم قال: صلّ بعد الجمعة ركعتين ثم صل (بعدها) (١) ما شئت. [٤٨] من كان يصلي (بعد) (٢) الجمعة أربعا [٣٢]
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جمعہ کے بعد پہلے دو رکعتیں پڑھ لو پھر اس کے بعد جتنی مرضی چاہو پڑھو۔
٥٤٨٤ - حدثنا أبو بكر قال (حدثنا) (١) ابن إدريس (٢) عن سهيل عن أبيه عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الجُمُعَةِ فَليُصَلِّ أَرْبَعًا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے جمعہ کے بعد کوئی نماز پڑھنی ہو وہ چار رکعتیں پڑھ لے۔
٥٤٨٥ - حدثنا شريك (عن) (١) (أبي) (٢) إسحاق عن عبد اللَّه بن حبيب (قال كان عبد اللَّه) (٣) كان يصلّي بعد الجمعة أربعا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ جمعہ کے بعد چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
٥٤٨٦ - حدثنا ابن فضيل عن خصيف عن أبي عبيدة عن عبد اللَّه (أنه كان) (١) يصلي بعد الجمعة أربعا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ جمعہ کے بعد چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
٥٤٨٧ - حدثنا مروان بن معاوية عن العلاء بن المسيب عن أبيه قال: كان عبد اللَّه يصلّي بعد الجمعة أربعا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ جمعہ کے بعد چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
٥٤٨٨ - حدثنا ابن نمير عن حجاج عن حماد عن إبراهيم عن علقمة أنه كان يصلّي أربعا بعد الجمعة لا يفصل بينهن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ جمعہ کے بعد چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور ان چاروں کے درمیان فصل نہیں کرتے تھے۔
٥٤٨٩ - حدثنا أبو داود عن شعبة عن أبي حصين قال: رأيت الأسود بن يزيد صلّى بعد الجمعة أربعا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حصین کہتے ہیں کہ میں نے حضرت اسود بن یزید کو جمعہ کے بعد چار رکعتیں پڑھتے دیکھا ہے۔
٥٤٩٠ - حدثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم قال: كانوا يصلّون بعدها أربعا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف جمعہ کے بعد چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
٥٤٩١ - حدثنا غندر عن عموان عن أبي مجلز قال: إذا سلم الإمام صلى ركعتين يوم الجمعة وإذا رجع صلى ركعتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابومجلز فرماتے ہیں کہ جب امام جمعہ کے دن سلام پھیرے تو دو رکعتیں پڑھے اور جب واپس چلا جائے تو دو رکعتیں پڑھے۔
٥٤٩٢ - حدثنا جرير (بن) (١) عبد الحميد عن مغيرة عن حماد قال: كان يستحب في الأربع التي بعد الجمعة أن لا يسلم بينهن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ جمعہ کے بعد کی چار رکعات میں مستحب یہ ہے کہ آدمی ان کے درمیان سلام نہ پھیرے۔
٥٤٩٣ - حدثنا وكيع عن مسعر عن أبي بكر بن عمرو بن عتبة عن عبد الرحمن بن عبد اللَّه أنه كان يصلي بعد الجمعة أربعا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ جمعہ کے بعد چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔