حدیث نمبر: 4975
٤٩٧٥ - حدثنا أبو بكر قال (حدثنا) (١) محمد بن فضيل عن يزيد بن أبي زياد عن تميم بن سلمة عن مسروق قال: كان النبي ﷺ في سفر فعرس بأصحابه فلم يوقظهم مع (تعريسهم) (٢) إلا الشمس فقام فأمر المؤذن (فأذن) (٣) وأقام ثم صلى فقال مسروق: ما أحب أن لنا الدنيا وما فيها بصلاة رسول اللَّه ﷺ بعد طلوع الشمس (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے۔ آپ نے رات کے آخری حصہ میں پڑاؤ ڈالا اور نیند کے غلبے کی وجہ سے ایسی آنکھ لگی کہ سورج کی کرنوں نے آکر جگایا۔ آپ نے مؤذن کو اذان کا حکم دیا، اس نے اذان دی، پھر اقامت کہی اور آپ نے نماز پڑھائی۔ حضرت مسروق کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طلوع شمس کی نماز ہمیں محبوب تھی کہ دنیا کی ساری چیزیں اس کے سامنے ہیچ نظر آتی تھیں۔
حدیث نمبر: 4976
٤٩٧٦ - حدثنا (عبيدة) (١) بن حميد عن يزيد بن أبي زياد عن تميم بن سلمة عن مسروق عن ابن عباس عن النبي ﷺ مثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4977
٤٩٧٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سعد بن إبراهيم عن (عطاء) بن يسار قال: صلى رسول اللَّه ﷺ ركعتي الفجر بعد ما جاز (الوادي) ثم أمر بلالا فأذن (فأقام) (١) ثم صلى الفريضة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وادی کو عبور کرنے کے بعد فجر کی دو سنتیں ادا فرمائیں۔ پھر حضرت بلال کو حکم دیا انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی پھر آپ نے فرض نماز ادا فرمائی۔
حدیث نمبر: 4978
٤٩٧٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) هشام عن (الحسن) (٢) قال: يجزئ الرجل أن (يقضي) (٣) (الصلوات) (٤) بإقامة (واحدة) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ آدمی کئی نمازوں کو ایک اقامت کے ساتھ ادا کرسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 4979
٤٩٧٩ - حدثنا (حسين) (١) بن علي عن زائدة عن سماك عن القاسم بن عبد الرحمن عن أبيه عن عبد اللَّه قال سرينا ذات ليلة مع رسول اللَّه ﷺ قال: فقلنا يا رسول اللَّه لو (أمسستنا) (٢) الأرض فنمنا (ورعت) (٣) ركابنا قال: "فَمَنْ ⦗٤٦⦘ يَخرُسُنا؟ " قال: قلت: أنا، (فغلبتني) (٤) (عيني) (٥) فلم يوقظنا إلا (وقد) (٦) طلعت الشمس ولم يستيقظ رسول اللَّه ﷺ إلا بكلامنا قال: فَأَمْرَ بِلَالًا فَأْذَّنَ وَأَقَامَ (فصلى بنا) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک رات ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کیا۔ ایک جگہ پہنچ کر ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اگر ہم کچھ دیر کے لیے پڑاؤ ڈال لیں تو ہم کچھ دیر سوجائیں گے اور ہماری سواریاں چر لیں گے۔ چناچہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا پہرہ کون دے گا ؟ میں نے کہا میں پہرہ دوں گا۔ لیکن مجھے نیند آگئی اور ہم اس وقت سو کر اٹھے جب سورج طلوع ہوچکا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہماری باتوں کی وجہ سے بیدار ہوئے۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال کو حکم دیا انہوں نے اذان اور اقامت کہی اور آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی۔