حدیث نمبر: 4944
٤٩٤٤ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا سهل بن يوسف عن حميد عن بكر قال: (كُتب) (١) إلى عمر من نجران: لم (يجدوا) (٢) مكانا أنظف ولا أجود من بَيْعَةٍ فكتب: انضحوها بماء وسدر وصلوا فيها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کو نجران سے خط لکھا گیا کہ وہاں لوگوں کے پاس نماز پڑھنے کے لئے گرجا گھر سے بہتر اور صاف جگہ کوئی نہیں۔ کیا وہاں نماز پڑھ لیں ؟ حضرت عمر نے جواب میں فرمایا کہ اس جگہ کو پانی اور بیری سے صاف کرکے نماز پڑھ لو۔
حدیث نمبر: 4945
٤٩٤٥ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم، حسن اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ گرجا گھروں میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 4946
٤٩٤٦ - وعن يونس عن الحسن.
حدیث نمبر: 4947
٤٩٤٧ - وعن حصين عن الشعبي أنهم قالوا: لا بأس بالصلاة في البِيَع.
حدیث نمبر: 4948
٤٩٤٨ - حدثنا حفص بن غياث عن حجاج قال: سألت عطاء عن الصلاة في الكنائس والبيع فلم ير بها بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے گرجا گھر اور کلیسا میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 4949
٤٩٤٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ عیسائیوں اور یہودیوں کی عبادت گاہوں میں نماز پڑھنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 4950
٤٩٥٠ - وعن جابر عن الشعبي (قالا) (١): لا بأس (بالصلاة) (٢) في الكنيسة والبِيْعَةِ.
حدیث نمبر: 4951
٤٩٥١ - [حدثنا غندر عن أشعث عن محمد قال: لا بأس بالصلاة في الكنيسة.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ یہودیوں کی عبادت گاہ میں نماز پڑھنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 4952
٤٩٥٢ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن أشعث عن الحسن أنه كرهه] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن نے غیر مسلموں کی عبادت گاہوں میں نماز پڑھنے کو مکروہ اور محمد نے جائز بتایا ہے۔
حدیث نمبر: 4953
٤٩٥٣ - وأن محمدا لم ير به بأسًا.
حدیث نمبر: 4954
٤٩٥٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن خصيف عن مقسم عن ابن عباس أنه كره الصلاة في الكنيسة إذا (كان) (١) فيها تصاوير (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر گرجا میں تصاویر ہوں تو وہاں نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 4955
٤٩٥٥ - حدثنا وكيع عن عثمان ابن أبي هند قال: رأيت عمر بن عبد العزيز يؤم الناس فوق كنيسة والناس أسفل منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن ابی ہند کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو ایک کلیسا پر کھڑے ہوکر لوگوں کو نماز پڑھاتے دیکھا جبکہ لوگ آپ کے نیچے کھڑے تھے۔
حدیث نمبر: 4956
٤٩٥٦ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن رافع قال: رأيت عمر بن عبد العزيز يؤم الناس في كنيسة بالشام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن رافع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو ملک شام میں ایک کلیسا میں نماز پڑھاتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 4957
٤٩٥٧ - حدثنا ملازم بن عمرو عن عبد اللَّه بن بدر عن قيس بن طلق عن أبيه طلق بن علي قال: خرجنا وفدا إلى النبي ﷺ فأخبرناه أن بأرضنا بيعة لنا فاستوهبناه فضل طهوره فدعا بماء (١) فتوضأ ثم (مضمض) (٢) ثم جعله لنا في (إداوة) (٣) فقال: "اخْرُجُوا بهِ مَعَكُمْ فَإِذا قَدِمْتُمْ بَلَدَكُمْ فَاكْسِرُوا بيْعَتَكُمْ وَانْضَحُوا مَكَانَهَا بالْمِاءِ واتَّخِذُوهَا مَسْجِدًا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک وفد کی صورت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے عرض کیا کہ ہماری سرزمین میں ایک گرجا ہے۔ ہم نے اسے پاک کرنے کے لئے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی مانگا۔ آپ نے پانی منگوا کر وضو کیا اور پھر کلی کی اور بچا ہوا پانی ہمارے ایک برتن میں رکھ کر فرمایا کہ اسے اپنے ساتھ لے جاؤ، جب تم اپنے علاقے میں پہنچو تو اپنے گرجے کو گرا دو اور اس جگہ یہ والا پانی چھڑکو اور اس جگہ کو مسجد بنالو۔
حدیث نمبر: 4958
٤٩٥٨ - حدثنا وكيع قال حدثنا أبو فضالة قال: حدثنا أزهر (الحرازي) (١) أن أبا ⦗٤١⦘ موسى صلى في كنيسة (بدمشق) (٢) (يقال) (٣) لها كنيسة (يُحنا) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ازہر حرازی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ نے دمشق کے ایک گرجا میں نماز پڑھی، اسے یوحنا کا گرجا کہا جاتا تھا۔