کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک آدمی حضر میں کچھ نمازیں پڑھنا بھول جائے اور اسے وہ سفر میں یاد آئیں تو وہ انہیں کیسے ادا کرے؟
حدیث نمبر: 4843
٤٨٤٣ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن مغيرة عن إبراهيم في رجل صلى بقوم الظهر وهي له العصر قال: تمت صلاته ويعيد من خلفه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس شخص کے بارے میں جو لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائے لیکن وہ اس کی عصر کی نماز ہو فرماتے ہیں کہ اس کی نماز ہوجائے گی لیکن مقتدی اپنی نماز کا اعادہ کریں گے۔
حدیث نمبر: 4844
٤٨٤٤ - حدثنا ابن علية عن خالد عن أبي قلابة قال: لا تجزي صلاة واحدة عن قومين (شتى) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ ایک جماعت دو مختلف نمازوں سے نہیں ہوسکتی۔
حدیث نمبر: 4845
٤٨٤٥ - حدثنا ابن علية عن عباد بن منصور قال: انتهيت إلى المسجد الجامع وأنا أرى أنهم لم يصلوا الظهر فقمت أتطوع حتى أقيمت الصلاة فلما صلوا (إذا) (١) هي العصر فقمت فصليت بهم الظهر ثم صليت العصر ثم أتيت الحسن فذكرت ذلك له فأمرني (بمثل) (٢) الذي صنعت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عباد بن منصور کہتے ہیں کہ میں جامع مسجد حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ لوگوں نے ابھی ظہر کی نماز نہیں پڑھی ہے۔ میں ظہر کے انتظار میں نفل پڑھنے لگا اتنے میں جماعت کھڑی ہوگئی۔ جب انہوں نے نماز پڑھ لی تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ عصر کی نماز تھی۔ چناچہ میں نے پھر اپنی ظہر کی نماز ادا کی۔ پھر عصر کی نماز پڑھی۔ پھر میں حسن کے پاس آیا اور ان سے اس مسئلہ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے مجھے اسی کا حکم دیا جو میں نے کیا تھا۔
حدیث نمبر: 4846
٤٨٤٦ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن محمد بن سيرين عن كثير بن أفلح قال: انتهينا إلى المسجد ولم أصل المغرب فأقيمت الصلاة فصليت معهم وأنا أرى أنها المغرب فإذا هي العشاء فقمت فصليت المغرب ثم صليت العشاء ثم سألت فأمروني بالذي صنعت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کثیر بن افلح کہتے ہیں کہ میں مسجد پہنچا، میں نے ابھی تک مغرب کی نماز نہیں پڑھی تھی۔ اتنے میں جماعت کھڑی ہوگئی، میں نے مغرب کی نماز تصور کرتے ہوئے ان کے ساتھ نماز پڑھی لیکن مجھے پتہ چلا کہ وہ تو عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے۔ چناچہ میں نے پہلے مغرب کی نماز پڑھی اور پھر عشاء کی۔ پھر میں نے بزرگوں سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے مجھے اسی کا حکم دیاجو میں نے کیا تھا۔
حدیث نمبر: 4847
٤٨٤٧ - حدثنا وكيع (عن سفيان) (١) عن جعفر بن برقان عن الزهري في رجل دخل مع قوم في الظهر وهي لهم العصر قال: يبدأ بالذي بدأ اللَّه به يصلي الظهر ثم يصلي العصر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری اس شخص کے بارے میں جو ظہر کی نماز سمجھ کر کسی جماعت میں شریک ہو لیکن وہ لوگ عصر کی نماز پڑھ رہے ہوں، فرماتے ہیں کہ وہ پہلے وہ نماز پڑھے گا جسے اللہ نے پہلے رکھا ہے یعنی ظہر کی پھر عصر کی نماز پڑھے گا۔
حدیث نمبر: 4848
٤٨٤٨ - حدثنا وكيع عن سفيان قال: بلغني عن طاوس وعطاء أنهما قالا: تجزئه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اس طرح بھی اس کی نماز ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 4849
٤٨٤٩ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه (الأسدي) (١) عن إسرائيل عن جابر قال: سألت أبا جعفر وسالما والقاسم وعطاء عن رجل دخل مع قوم في العصر وهو يرى أنها الظهر قالوا: ينصرف فيصلي الظهر وتجزئ عنه العصر قال: (و) (٢) سألت عامرا ومسلم بن صبيح فقالا: ينصرف فيصلي الظهر ثم يصلي العصر فإن اللَّه قد كتبها عنده قبل العصر (فلا) (٣) تكون له الظهر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر، حضرت سالم، حضرت قاسم اور حضرت عطاء سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو ظہر کی نماز سمجھتے ہوئے کسی جماعت میں داخل ہو لیکن وہ لوگ عصر کی نماز پڑھ رہے ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ سلام پھیرنے کے بعد ظہر کی نماز پڑھے گا البتہ اس کی عصر کی نماز ہوجائے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس بارے میں حضرت عامر، حضرت مسلم بن صبیح سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ فارغ ہو کر پہلے ظہر کی نماز پڑھے گا پھر عصر کی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ظہر کو عصر سے پہلے فرض کیا ہے۔ لہٰذا ظہر کی نماز عصر کے بعد نہیں ہوسکتی۔ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت حماد اور ابراہیم کی بھی یہی رائے ہے۔
حدیث نمبر: 4850
٤٨٥٠ - وقال جابر عن حماد عن إبراهيم مثل ذلك.
حدیث نمبر: 4851
٤٨٥١ - أبو أسامة عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب والحسن قالا في رجل دخل (مع) (١) قوم في صلاة العصر وهو يحسبهم في صلاة الظهر فإذا هم في ⦗١٩⦘ العصر قال: يستقبل الصلاتين جميعا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب اور حسن اس شخص کے بارے میں جو ظہر کی نماز سمجھتے ہوئے کسی جماعت میں شریک ہو اور لوگ عصر کی نماز پڑھ رہے ہوں، فرماتے ہیں کہ وہ دونوں نمازوں کو دوبارہ پڑھے گا۔