کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی آدمی جنگ وغیرہ میں مشغولیت کی وجہ سے کوئی نماز نہ پڑھ سکا تو بعد میں اسے کیسے پڑھے گا ؟
٤٨٥٢ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا (١) هشيم قال أخبرنا (٢) يونس عن الحسن أنه كان يقول في المسافر: إذا نسي صلاة السفر فذكرها في الحضر صلى صلاة السفر وإذا نسي صلاة في الحضر فذكرها في السفر فليصل صلاة الحضر.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کسی مسافر کو سفر میں کوئی نماز بھول گئی اور وہ اسے حضر میں یاد آئی تو وہ سفر کی نماز پڑھے گا اور اگر حضر میں کوئی نماز بھول گئی اور سفر میں یاد آئی تو وہ حضر کی نماز پڑھے گا۔
٤٨٥٣ - حدثنا هشيم عن مغيرة وعبيدة عن إبراهيم مثل ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم بھی یونہی فرماتے ہیں۔
٤٨٥٤ - حدثنا وكيع قال (حدثنا) (١) سفيان عن ابن الفضل عن الحسن قال: إذا نسي صلاة في الحضر فذكرها في السفر صلى صلاة الحضر وإذا نسي صلاة في السفر (فذكرها) في الحضر صلى صلاة السفر.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو حضر میں کوئی نماز بھول گئی اور سفر میں یاد آئی تو وہ حضر کی نماز پڑھے گا۔ اور اگر سفر میں کوئی نماز بھول گئی اور وہ اسے حضر میں یاد آئی تو وہ سفر کی نماز پڑھے گا ۔
٤٨٥٥ - حدثنا وكيع قال: سمعت سفيان يقول: يصلي الصلاة التي نسيها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ وہ وہی نماز پڑھے گا جو اسے بھولی تھی۔
٤٨٥٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن عبد الخالق عن حماد قال: إذا نسي صلاة في الحضر فذكرها في السفر (صلى أربعا) (١) وإذا نسي صلاة في السفر فذكرها في الحضر صلى صلاة سفر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص حضر میں کوئی نماز پڑھنا بھول گیا اور اسے سفر میں یاد آیا تو وہ چار رکعات پڑھے گا۔ اور اگر سفر میں کوئی نماز پڑھنا بھول گیا اور اسے حضر میں یاد آیا تو سفر کی نماز پڑھے گا۔