کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک آدمی امام کے پیچھے سو جائے اور اس کی کچھ نماز رہ جائے تو وہ کیا کرے؟ ا
٤٧٩١ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا حفص بن غياث عن يحيى بن سعيد عن الزهري قال: لا بأس (به) (١)، يعني (أن) (٢) يمسح جبهته قبل أن ينصرف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ نماز پوری کرنے سے پہلے پیشانی پر ہاتھ پھیرنے میں کوئی حرج نہیں۔
٤٧٩٢ - حدثنا يزيد بن أبي (الخندق) (١) عن مالك بن دينار قال: سألت سالما عن الرجل يمسح جبهته فلم ير به بأسا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم سے نماز پوری کرنے سے پہلے پیشانی پر ہاتھ پھیرنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
٤٧٩٣ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن شعبة عن حماد قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ نماز پوری کرنے سے پہلے پیشانی پر ہاتھ پھیرنے میں کوئی حرج نہیں۔
٤٧٩٤ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن حماد مثله.
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
٤٧٩٥ - حدثنا وكيع عن يزيد بن إبراهيم عن ابن سيرين قال: رأيته قال بثوبه هكذا فمسح به جبهته، وأمّر وكيع يده على جبهته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن ابراہیم فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن سیرین کو نماز میں کپڑے سے اپنی پیشانی صاف کرتے دیکھا ہے اور حضرت وکیع نے اپنے ہاتھ کو اپنی پیشانی پر پھیرا۔
٤٧٩٦ - حدثنا بشر بن المفضل عن سلمة بن علقمة عن ابن سيرين بنحو حديث وكيع أو مثله.
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔