کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کیا مسجد میں قبلہ کی طرف قرآن مجید کی آیت یا کوئی دوسری چیز لکھی جاسکتی ہے؟
حدیث نمبر: 4654
٤٦٥٤ - حدثنا أبو الأحوص عن (خصيف) (١) عن مقسم قال: قال ابن عباس: لا يصلى (في بيت) (٢) فيه تماثيل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایسے کمرے میں نماز نہ پڑھو جس میں تصاویر ہوں۔
حدیث نمبر: 4655
٤٦٥٥ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن عطاء الخراساني قال: لما بني المسجد في عهد عثمان جعلوا في سقفه (أترجه) (١) فكان الداخل إذا دخل يسمو بصره إليها فبلغ ذلك عثمان فأمر بها فنزعت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء خراسانی کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان کے دور خلافت میں مسجد کی تعمیر کی گئی تو لوگوں نے مسجد کی چھت میں نارنگیاں رکھ دیں۔ اب مسجد میں آنے والے کی نظر سب سے پہلے ان پر پڑتی تھی۔ حضرت عثمان نے انہیں اتارنے کا حکم دیا چناچہ وہ اتار دی گئیں۔
حدیث نمبر: 4656
٤٦٥٦ - حدثنا ابن عيينة عن منصور بن صفية عن خاله مسافع عن (أخته) (١) ⦗٥٠٨⦘ صفية أم منصور قالت: أخبرتني امرأة من أهل الدار من بني سليم (قالت) (٢): قلت لعثمان بن طلحة لم دعاك وسول اللَّه ﷺ (حين) (٣) خرج من البيت قال: قال: "إِنِّي رَأَيْتُ قَرْنَيْ الْكَبْشِ فَنَسِيتُ أَنْ، آمُرَكَ أَنْ تُخَمِّرَهُمَا وَأَنَّهُ لَا يَنْبغي أن يَكُونَ فِي البَيْتِ شَيْءٌ يَشْغَلُ المُصَلِّيَ" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
بنو سلیم کی ایک خاتون کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عثمان سے پوچھا کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کمرے سے نکلتے ہوئے آپ کو کیا کہا تھا ؟ حضرت عثمان نے فرمایا کہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں نے مینڈھے کے دو سینگ دیکھے ہیں، میں تمہیں یہ حکم دینا بھول گیا کہ تم ان پر کپڑا ڈال دو ۔ کمرے میں کوئی ایسی چیز نہیں ہونی چاہئے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کرے۔
حدیث نمبر: 4657
٤٦٥٧ - حدثنا وكيع عن عيسى بن حميد قال: سأل عقبةُ الحسنَ قال: إن في (مسجدنا) (١) (ساجة) (٢) فيها تصاوير قال: (انجروها) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ نے حضر ت حسن سے سوال کیا کہ ہماری مسجد ساج کی بنی ہوئی ہے اور اس میں تصویریں ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ ان تصویروں کو ختم کردو۔
حدیث نمبر: 4658
٤٦٥٨ - حدثنا ابن مهدي عن خالد عن أبي عثمان قال: حدثتني لبابة عن (أمها) (١) وكانت تخدم عثمان بن عفان: أن عثمان بن عفان كان يصلي إلى تابوت فيه (تماثيل) (٢) فأمر به فحك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لبابہ اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں کہ حضر ت عثمان ایک الماری کی طرف رخ کرکے نماز پڑھا کرتے تھے جس پر تصویریں تھیں۔ آپ نے حکم دیا کہ ان تصویروں کو کھرچ دیا جائے چناچہ انہیں اس پر سے کھرچ دیا گیا۔