حدیث نمبر: 4650
٤٦٥٠ - حدثنا أبو بكر قال (حدثنا) (١) ابن فضيل (عن خصيف) (٢) عن مجاهد قال: كان ابن عمر إذا دخل بيتا فرأى في قبلة المسجد مصحفا أو شبهه أخذه فرمى به وإن كان عن يمينه أو شماله تركه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب کمرے میں داخل ہوتے اور قبلہ کی جانب قرآن مجید یا اس جیسی کوئی چیز دیکھتے تو اسے وہاں سے ہٹا دیتے۔ اگر ان کے دائیں یا بائیں جانب قرآن مجید ہوتا تو اسے رکھا رہنے دیتے۔
حدیث نمبر: 4651
٤٦٥١ - حدثنا هشيم قال (أخبرنا) (١) حصين عن إبراهيم أنه كان يكره أن يصلي الرجل وفي قبلة المسجد مصحف أو غيره.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ آدمی اس طرح نماز پڑھے کہ قبلہ کی جانب قرآن مجید یا کوئی ایسی چیز رکھی ہے۔
حدیث نمبر: 4652
٤٦٥٢ - حدثنا (حرمي) (١) (بن) (٢) عمارة بن أبي حفصة عن شعبة قال: ⦗٥٠٧⦘ سألت الحكم وحمادا عن الرجل يكون بينه وبين القبلة (المصحف فكرهاه) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اس طرح نماز پڑھے کہ قبلہ کی طرف قرآن مجید رکھا ہو یہ کیسا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 4653
٤٦٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) وكيع عن سفيان عن منصور عن مجاهد قال: كانوا يكرهون أن يكون بينهم وبين القبلة (شيء حتى المصحف) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اسلاف اس بات کو مکروہ قرار دیتے تھے کہ نمازیوں اور قبلے کے درمیان کوئی چیز ہو حتیٰ کہ قرآن مجید کے رکھنے کو بھی مکروہ فرماتے تھے۔