کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: مسجد میں قبلہ کی جانب قرآن مجید یا کوئی اور چیز رکھنا کیسا ہے؟
٤٦٤٠ - حدثنا أبو معاوية عن ابن أبي ذئب عن أبي جابر (البياضي) (١) عن سعيد بن المسيب أن النبي ﷺ صلى بالناس وهو جنب (فأعاد) (٢) وأعادوا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حالت جنابت میں نماز پڑھا دی، اس پر آپ نے بھی دوبارہ نماز پڑھی اور لوگوں نے بھی دوبارہ نماز پڑھی۔
٤٦٤١ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سالم عن ابن عمر أنه صلى بهم الغداة ثم ذكر أنه صلى بغير وضوء فأعاد ولم يعيدوا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فجر کی نماز پڑھائی، پھر انہیں یاد آیا کہ انہوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھا دی ہے، چناچہ انہوں نے دوبارہ نماز پڑھی لیکن لوگوں نے نماز کا اعادہ نہیں کیا۔
٤٦٤٢ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) الأعمش عن إبراهيم أن عمر صلى بالناس وهو جنب فأعاد وأمرهم (أن لا) (٢) يعيدوا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک مرتبہ حالت جنابت میں نماز پڑھادی، پھر انہوں نے نماز کا اعادہ کیا لیکن لوگوں کو حکم دیا کہ نماز کا اعادہ نہ کریں۔
٤٦٤٣ - حدثنا وكيع عن إبراهيم بن يزيد عن عمرو بن دينار عن علي قال: يعيد ويعيدون (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ امام بھی دوبارہ نماز پڑھے گا اور مقتدی بھی۔
٤٦٤٤ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن أنه سئل عن رجل أم قوما في شهر رمضان وهو على غير وضوء فصلى بهم صلاة العشاء وصلاة رمضان والوتر فقال: يعيد ولا يعيد من خلفه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص رمضان میں بغیر وضو کے لوگوں کو عشاء ، تراویح اور وتر پڑھا دے تو اس نماز کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ تو دوبارہ نماز پڑھے گا لیکن لوگ نماز کو نہیں دہرائیں گے۔
٤٦٤٥ - حدثنا هشيم عن يونس (١) عن ابن سيرين قال: سألته فقال: أعد الصلاة وأخبر أصحابك أنك صليت بهم وأنت (٢) غير (طاهر) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
یونس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم نماز کو دہراؤ اور اپنے مقتدیوں کو بتادو کہ تم نے انہیں بےوضو ہونے کی حالت میں نماز پڑھائی ہے۔
٤٦٤٦ - [(١) حدثنا- هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: يعيد ولا يعيد من خلفه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ امام نماز کا اعادہ کرے گا لیکن مقتدی نہیں کریں گے۔
٤٦٤٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: (إذا) (١) صلى الجنب بالقوم فأتم (بهم) (٢) الصلاة آمره أن يغتسل ويعيد ولم (آمرهم) (٣) أن يعيدوا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے حالت جنابت میں لوگوں کو نماز پڑھادی تو میں اسے حکم دوں گا کہ وہ غسل کرے اور دوبارہ نماز پڑھے، جبکہ میں لوگوں کو دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم نہیں دوں گا۔
٤٦٤٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن حماد أنه قال في الرجل يصلي بالقوم وهو جنب قال: أحب إليّ أن يعيدوا] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص لوگوں کو بےوضو ہونے کی حالت میں نماز پڑھادے تو میرے نزدیک بہتر یہ ہے کہ سب دوبارہ نماز پڑھیں۔
٤٦٤٩ - حدثنا قبيصة قال حدثنا (١) سفيان عن الشيباني عن (بكير) (٢) بن الأخنس عن سعيد بن جبير قال: إذا صلى بهم وهو على غير وضوء أعاد ولم يعيدوا قال سفيان: وأحب إليّ أن يعيد ويعيدوا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ اگر امام نے لوگوں کو بےوضو ہونے کی حالت میں نماز پڑھا دی تو وہ نماز دوبارہ پڑھے گا لیکن لوگ دوبارہ نہیں پڑھیں گے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک بہتر یہ ہے کہ امام بھی دوبارہ نماز پڑھے اور مقتدی بھی۔