کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کوئی آدمی آیت سجدہ کی تلاوت کرے اور لوگ اس کے پاس موجود ہوں تو وہ اس وقت تک سجدہ نہیں کریں گے جب تک وہ خود سجدہ نہیں کر لیتا
حدیث نمبر: 4425
٤٤٢٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن عجلان عن زيد بن أسلم أن غلاما (قرأ) (١) عند النبي ﷺ السجدة فانتظر الغلام النبي ﷺ أن يسجد فلما لم يسجد قال: يا رسول اللَّه أليس في هذه السورة سجدة؟ قال: "بَلَى وَلَكِنَّكَ كُنْتَ إِمَامَنَا فِيهَا فَلَوْ سَجَدْتَ لَسَجَدْنَا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ ایک لڑکے نے نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیت سجدہ کی تلاوت کی۔ اس نے انتظار کیا کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ فرمائیں۔ جب آپ نے سجدہ نہ کیا تو وہ کہنے لگا یا رسول اللہ ! کیا اس سورت میں سجدہ نہیں ہے ؟ آپ نے فرمایا اس سورت میں سجدہ تو ہے۔ البتہ تم اس بارے میں ہمارے امام تھے۔ اگر تم سجدہ کرتے تو ہم بھی سجدہ کرتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / باب سجود التلاوة / حدیث: 4425
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4425، ترقيم محمد عوامة 4396)
حدیث نمبر: 4426
٤٤٢٦ - حدثنا ابن فضيل عن الأعمش عن (١) أبي إسحاق عن سليم بن حنظلة قال قرأت على عبد اللَّه بن مسعود (سورة) (٢) بني إسرائيل فلما بلغت السجدة قال عبد اللَّه: اقرأها فإنك إمامنا فيها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیم بن حنظلہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس سورة بنی اسرائیل پڑھی۔ جب میں آیت سجدہ پر پہنچا تو حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ اسے پڑھو، تم اس میں ہمارے امام ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / باب سجود التلاوة / حدیث: 4426
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن، سليم بن حنظلة هو البكري نسبة إلى سعد بن بكر وقد روى عنه جماعة وذكره ابن حبان في الثقات.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4426، ترقيم محمد عوامة 4397)