کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ وہ سجدہ نہ کرے اور وہ اس بات کو مکروہ خیال فرماتے ہیں کہ آدمی اس وقت میں آیت سجدہ کی تلاوت کرے
حدیث نمبر: 4398
٤٣٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) يحيى بن سعيد القطان عن محمد بن عجلان عن عبيد اللَّه بن مقسم أن قاصا كان يقرأ السجدة بعد الفجر فيسجد فنهاه ابن عمر فأبى أن ينتهي فحصبه وقال: إنهم لا يعقلون (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مقسم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی فجر کے بعد آیت سجدہ کی تلاوت کرتا اور سجدہ کیا کرتا تھا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے ایسے کرنے سے منع کیا لیکن وہ باز نہ آیا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے جھڑکا اور کہا کہ یہ لوگ عقل نہیں رکھتے۔
حدیث نمبر: 4399
٤٣٩٩ - حدثنا وكيع عن ثابت (بن) (١) عمارة عن أبي تميمة (الهجيمي) (٢) قال: كنت أقرأ السجدة بعد الفجر (فأسجد) (٣) فأرسل إليَّ ابن عمر فنهاني (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو تمیمہ ہجیمی فرماتے ہیں کہ میں فجر کے بعد آیت سجدہ کی تلاوت کرکے سجدہ کیا کرتا تھا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پیغام بھیج کر مجھے منع کردیا۔
حدیث نمبر: 4400
٤٤٠٠ - حدثنا أزهر عن ابن عون قال: كان سعيد بن أبي الحسن يقرأ بعد الغداة فيمر بالسجدة فيجاوزها فإذا حلت الصلاة قرأها وسجد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن ابی الحسن فجر کے بعد قرآن مجید کی تلاوت کرتے ، جب کوئی آیت ِ سجدہ آتی تو اس سے گذر جاتے۔ جب نماز پڑھ لیتے تو اس آیت کو پڑھ کر سجدہ کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4401
٤٤٠١ - حدثنا وكيع عن مبارك قال: رأيت الحسن قرأ سجدة بعد العصر فلما غابت الشمس قرأها (ثم) (١) سجد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مبارک فرماتے ہیں کہ میں نے حسن کو دیکھا کہ انہوں نے عصر کے بعد آیت سجدہ پڑھی اور جب سورج غروب ہوگیا تو اسے پڑھ کر سجدہ کیا۔
حدیث نمبر: 4402
٤٤٠٢ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) (حماد) (٢) بن سلمة قال: أنا ثابت عن عبد اللَّه بن أبي عتبة أن أبا أيوب كان يحدث (فإذا) (٣) بزغت الشمس قرأ السجدة فسجد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابی عتبہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ایوب بیان تلاوت کیا کرتے تھے، جب سورج غروب ہوجاتا تو آیت سجدہ پڑھ کر سجدہ کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4403
٤٤٠٣ - حدثنا ابن مهدي عن (سليم) (١) بن حيان عن أبي غالب أن أبا أمامة كان يكره الصلاة بعد العصر حتى تغرب الشمس وبعد الفجر حتى تطلع الشمس وكان أهل الشام يقرؤون السجدة (بعد العصر) (٢) فكان أبو أمامة إذا رأى أنهم يقرؤون سورة فيها سجدة بعد العصر (لم) (٣) يجلس معهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو غالب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو امامہ عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک اور فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک نماز کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔ اہلِ شام عصر کے بعد آیت سجدہ پڑھتے ۔ ابو امامہ اگر ان میں سے کسی کو عصر کے بعد کوئی ایسی سورت پڑھتے ہوئے دیکھتے جس میں سجدہ تلاوت ہوتا تو ان کے ساتھ نہیں بیٹھتے تھے۔
حدیث نمبر: 4404
٤٤٠٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن محمد بن سوقة (عن نافع) (١) عن ابن عمر أنه سمع قاصا يقرأ السجدة قبل أن تحل الصلاة فسجد القاص ومن معه فأخذ ابن ⦗٤٥٠⦘ عمر بيدي فلما أضحى قال لي: (يا) (٢) نافع اسجد بنا السجدة التي سجدها القوم في غير حينها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو نماز کے حلال ہونے سے پہلے آیت سجدہ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔ اس پر اس نے بھی سجدہ کیا اور اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔ حضرت عمر نے میرا ہاتھ پکڑا ، جب چاشت کا وقت ہو اتو انہوں نے فرمایا اے نافع ! آؤ وہ سجدہ کریں جو ان لوگوں نے بےوقت کیا تھا۔