کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی آدمی بے وضو ہونے کی حالت میں آیت سجدہ سنے تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 4381
٤٣٨١ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا (١) زكريا بن أبي زائدة قال: (أنا أبو الحسن عن رجل -زعم أنه كنفسه- عن سعيد بن جبير قال: كان عبد اللَّه بن عمر ينزل عن راحلته فيهريق الماء ثم يركب فيقرأ السجدة فيسجد وما توضأ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر اپنی سواری سے اترتے، استنجا کرتے اور پھر سوار ہوکر بغیر وضو کئے آیتِ سجدہ پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4382
٤٣٨٢ - حدثنا هشيم قال: أنا أبو بشر عن الحسن في الرجل يسمع السجدة وهو على غير وضوء فلا سجود (عليه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بغیر وضو کے آیت سجدہ سنے تو اس پر سجدہ لازم نہیں۔
حدیث نمبر: 4383
٤٣٨٣ - حدثنا هشيم قال: أنا مغيرة عن إبراهيم قال: إذا سمعه (وهو على ⦗٤٤٦⦘ غير وضوء) (١) فليتوضأ ثم (ليقرأها فيسجد) (٢)، فإن كان لا يحسنها قرأ غيرها، ثم (سجد) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے بغیر وضو ہونے کی حالت میں آیت سجدہ سنی تو وضو کرے۔ پھر آیت سجدہ پڑھے اور پھر سجدہ کرے۔ اگر وہ خود ٹھیک طرح سے نہ پڑھ سکتا ہو تو کوئی دوسرا پڑھے اور پھر یہ سجدہ کرے۔
حدیث نمبر: 4384
٤٣٨٤ - حدثنا وكيع عن (زكريا بن أبي زائدة) (١) عن الشعبي قال في الرجل يقرأ السجدة وهو على غير وضوء قال: يسجد حيث كان وجهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی اس شخص کے بارے میں جو بےوضو ہونے کی حالت میں آیت سجدہ پڑھے فرماتے ہیں کہ جہاں اس کا چہرہ ہو وہیں سجدہ کرلے۔
حدیث نمبر: 4385
٤٣٨٥ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم في الرجل يسمع السجدة وليس على وضوء قال: إن كان عنده ماء توضأ وسجد وإن لم يكن عنده ماء تيمم وسجد.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس شخص کے بارے میں جو آیت سجدہ سنے لیکن اس کا وضو نہ ہو فرماتے ہیں کہ اگر اس کے پاس پانی ہو تو وضو کرکے سجدہ کرے اور اگر اس کے پاس پانی نہ ہو تو تیمم کرکے سجدہ کرے۔