٣٩٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) زيد بن (حباب) (٢) قال: (حدثنا) (٣) معاوية بن صالح قال: (حدثني يونس بن سيف (العنسي)) (٤) (٥) عن الحارث بن (غطيف أو غطيف) (٦) بن الحارث الكندي -شك من معاوية- قال: مهما رأيت نسيت (لم) أنس أني رأيت رسول اللَّه ﷺ وضع يده اليمنى على اليسرى، يعني: في الصلاة (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حضرت حار ث بن غطیف یا غطیف بن حارث فرماتے ہیں کہ میں نے جو کچھ بھی دیکھا میں بھول گیا البتہ ایک بات مجھے یاد ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھتے ہوئے دیکھا ہے۔
٣٩٧٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سماك عن قبيصة بن هلب عن أبي قال: رأيت النبي ﷺ واضعا يمينه على شماله في الصلاة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھلب فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھتے ہوئے دیکھا ہے۔
٣٩٧٨ - حدثنا ابن إدريس عن عاصم بن كليب عن أبيه عن وائل بن حجر قال: رأيت رسول اللَّه ﷺ حين كبر أخذ (شماله) (١) بيمينه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وائل بن حجر فرماتے ہیں کہ میں نے رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا، جب آپ نے رکوع فرمایا تو اپنے بائیں ہاتھ کو اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیا۔
٣٩٧٩ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن الأعمش عن مجاهد عن مورق (العجلي) (١) عن أبي الدرداء قال: من أخلاق النبيين وضع اليمين على الشمال في الصلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں کہ نبیوں کی عادات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا جائے۔
٣٩٨٠ - حدثنا وكيع عن يوسف بن ميمون عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: كأني أنظر إلى أحبار بني إسرائيل واضعي أيمانهم على شمائلهم في الصلاة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ گویا کہ میں بنی اسرائیل کے علماء کو دیکھ رہا ہوں کہ انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھوں پر رکھے ہوئے ہیں۔
٣٩٨١ - حدثنا وكيع عن موسى بن عمير عن علقمة (بن) (١) وائل بن حجر عن أبيه قال: رأيت النبي ﷺ وضع يمينه على شماله في الصلاة (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وائل بن حجر سے روایت میں ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھتے ہوئے دیکھا ہے۔
٣٩٨٢ - (حدثنا وكيع عن ربيع عن أبي معشر عن إبراهيم قال: يضع يمينه على شماله في الصلاة) (١) تحت السرة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ آدمی نماز میں اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھے گا۔
٣٩٨٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا عبد السلام بن شداد (الجريري) (١) أبو طالوت قال: (نا) (٢) غزوان بن جرير الضبي عن أبيه قال: كان عليٌّ إذا قام في الصلاة وضع يمينه على (رسغه) (٣)، (فلا) (٤) يزال كذلك حتى يركع متى ما ركع، إلا أن يصلح ثوبه أو يحك جسده (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر ضبی فرماتے ہیں کہ حضرت علیجب نماز میں کھڑے ہوتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی کلائی پر رکھتے اور رکوع تک اسی حالت میں رہتے۔ البتہ اگر کپڑا ٹھیک کرنا ہوتا یا جسم پر خارش کرنا ہوتی تو ہاتھ اٹھاتے۔
٣٩٨٤ - حدثنا وكيع قال: حدثنا يزيد بن زياد (بن) (١) أبي الجعد عن عاصم الجحدري عن عقبة بن ظهير عن علي في قوله: ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ [الكوثر: ٢] قال: وضع اليمين على الشمال في الصلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہاللہ تعالیٰ کے فرمان { فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھنا ہے۔
٣٩٨٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) (حجاج) (٢) بن حسان قال: سمعت أبا مجلز (أو) (٣) سألته قال: قلت: كيف (يصنع) (٤)؟ قال: (يضع) (٥) باطن كف يمينه على ظاهر كيف شماله ويجعلها أسفل من السرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج بن حسان کہتے ہیں کہ میں نے ابو مجلز سے سوال کیا کہ میں نماز میں کس طرح ہاتھ باندھوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کے پچھلے حصے پر رکھو اور دونوں ہاتھ ناف کے نیچے باندھو۔
٣٩٨٦ - حدثنا يزيد قال: أخبرنا الحجاج بن أبي (زينب) (١) قال: حدثني أبو عثمان: أن النبي ﷺ مر برجل يصلي وقد وضع شماله على يمينه، فأخذ النبي ﷺ يمينه (فوضعها) (٢) على شماله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گذرے، انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھا ہوا تھا، آپ نے ان کا دایاں ہاتھ پکڑ کر بائیں ہاتھ پر رکھ دیا۔
٣٩٨٧ - حدثنا جرير عن مغيرة عن أبي معشر عن إبراهيم قال: لا بأس (أن) (١) يضع اليمنى على اليسرى في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی نماز میں اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھے۔
٣٩٨٨ - حدثنا أبو معاوية عن (عبد الرحمن بن إسحاق) (١) عن زياد بن زيد (السوائي) (٢) عن أبي جحيفة عن علي قال: من سنة الصلاة وضع الأيدي على الأيدي تحت (السرر) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز کی سنت یہ ہے کہ ہاتھ ہاتھوں پر ناف کے نیچے باندھے جائیں۔
٣٩٨٩ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ثور عن خالد بن معدان عن أبي زياد مولى (آل دراج) (١) (قال) (٢): ما رأيت فنسيت فإني لم أنس أن أبا بكر كان إذا قام في الصلاة قال: هكذا، فوضع اليمنى على اليسرى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو زیاد فرماتے ہیں کہ میں نے جو کچھ بھی دیکھا میں بھول گیا البتہ ایک بات مجھے یاد ہے کہ میں نے حضرت ابو بکرکو نماز میں اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھتے ہوئے دیکھا ہے۔
٣٩٩٠ - حدثنا (أبو معاوية (و) (١) حدثنا) (٢) حفص عن ليث عن مجاهد: أنه كان يكره أن يضع (اليمنى) (٣) على الشمال (يقول) (٤): على كفه (أو) (٥) (على الرسغ) (٦)، ويقول: فوق ذلك، ويقول: أهل الكتاب يفعلونه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد اس بات کو ناپسند سمجھتے تھے کہ دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا جائے، وہ فرماتے تھے کہ دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کے پیچھے یا کلائی پر یا اس سے آگے باندھنا چاہئے۔ کیونکہ ہاتھ پر ہاتھ رکھنا اہل کتاب کا طریقہ تھا۔
٣٩٩١ - حدثنا عبد الأعلى عن المستمر بن الريان عن أبي الجوزاء: أنه كان يأمر أصحابه أن (يضع) (١) أحدهم يده اليمنى على اليسرى وهو يصلي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الجوزاء اپنے شاگردوں کو اس بات کا حکم دیتے تھے کہ نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھیں۔