٣٩٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي جعفر الرازي عن الربيع بن أنس عن رجل عن ابن مسعود قال: التبسم في الصلاة ليس بشيء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز کے اندر تبسم میں کوئی حرج نہیں۔
٣٩٤٣ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن أبي الزبير عن جابر قال: التبسم لا يقطع، ولكن (تقطع) (١) (القرقرة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ تبسم نماز کو نہیں توڑتا بلکہ قہقہہ نماز کو توڑ تا ہے۔
٣٩٤٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ليث عن مجاهد قال: التبسم في الصلاة ليس بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ نماز کے اندر تبسم میں کوئی حرج نہیں۔
٣٩٤٥ - [حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: التبسم في ⦗٣٥٧⦘ الصلاة ليس بشيء حتى (تقرقر) (١)] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ تبسم نماز کو نہیں توڑتا بلکہ قہقہہ نماز کو توڑ تا ہے۔
٣٩٤٦ - حدثنا عباد بن العوام عن عبد الملك عن عطاء وهشام عن الحسن: أنهما لم يريا (١) بالتبسم في الصلاة شيئا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اور حضرت ہشام نماز کے دوران تبسم میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
٣٩٤٧ - حدثنا ابن مهدي عن الحكم بن عطية عن ابن سيرين: أنه سئل عن التبسم في الصلاة، فقرأ هذه الآية: ﴿فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِنْ قَوْلِهَا﴾ [النمل: ١٩]. (وقال) (١): لا أعلم التبسم إلا ضحكا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم بن عطیہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین سے نماز میں تبسم کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے یہ آیت پڑھی { فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا مِنْ قَوْلِہَا } اور فرمایا کہ میں تبسم کو محض ایک ہنسی سمجھتا ہوں۔
٣٩٤٨ - [حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن حميد قال: كان الحسن بن مسلم إذا رآني تبسم في وجهي وهو في الصلاة] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید فرماتے ہیں کہ حسن بن مسلم جب مجھے دیکھتے تو مسکراتے خواہ وہ نماز میں ہی ہوتے۔
٣٩٤٩ - حدثنا ابن مهدي عن شيبان عن جابر عن عامر قال: لا بأس بالتبسم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ تبسم میں کوئی حرج نہیں۔