کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کسی آدمی کے موزے پر پیشاب کا ایک قطرہ لگ جائے تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 3939
٣٩٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادا عن قطرة بول أصابت خفا، فقال أحدهما: يعيد. و (قال) (١) الآخر: لا يعيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے سوال کیا کہ اگر موزے پر پیشاب کا قطرہ لگا ہوا ہو تو کیا کرے ؟ ایک نے کہا کہ ایسی صورت میں نماز لوٹائے اور دوسرے نے کہا کہ نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3939
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3939، ترقيم محمد عوامة 3918)
حدیث نمبر: 3940
٣٩٤٠ - حدثنا شريك عن جابر عن عامر وقد ذكر (عدة) (١) منهم أبو جعفر: أنهم كانوا لا يعيدون الصلاة من نضح البول والدم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر نے کچھ لوگوں کا ذکر کیا جو پیشاب یا خون کا قطرہ لگ جانے کی صورت میں نماز کا اعادہ نہیں کرتے تھے ان میں ایک ابو جعفر بھی تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3940
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3940، ترقيم محمد عوامة 3919)
حدیث نمبر: 3941
٣٩٤١ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا صلى الرجل فوجد بعد ما صلى في ثوبه أو جلده عذرة أو بولا غسله وأعاد الصلاة، (و) (١) إذا وجد في جلده منيا أو دما غسله ولم يعد الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جو شخص نماز پڑھنے کے بعد اپنے کپڑوں پر یا اپنے جسم پر پاخانے یا پیشاب کانشان دیکھے تو اسے دھو لے اور دوبارہ نماز پڑھے۔ اور اگر اپنے جسم پر منی یا خون کا نشان دیکھے تو اسے دھو لے لیکن نماز دھرانے کی ضرورت نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3941
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3941، ترقيم محمد عوامة 3920)