کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اونٹوں کے باندھنے کی جگہ یعنی باڑہ میں نماز ادا کرنے کا حکم
٣٩١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) هشيم قال: (أخبرنا) (٢) يونس عن الحسن عن عبد اللَّه بن (مغفل) (٣) الزني قال: قال النبي ﷺ: "صلوا في مرابض المغنم ولا تصلوا في أعطان الإبل؛ فإنها خلقت من الشياطين" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مغفل مزنی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لو لیکن اونٹوں کے باندھنے کی جگہ میں نماز نہ پڑھو کیونکہ وہ شیطان سے پیدا کئے گئے ہیں۔
٣٩١٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (عبد اللَّه) (١) بن عبد اللَّه (عن) (٢) ابن أبي ليلى عن البراء بن عازب قال: سئل رسول اللَّه ﷺ عن الصلاة في مبارك الإبل؟ فقال: "لا تصلوا فيها". وسئل عن الصلاة في مرابض المغنم فقال: "صلوا فيها فإنها بركة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اونٹوں کے باندھنے کی جگہ نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس میں نماز نہ پڑھو۔ پھر آپ سے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس میں نماز پڑھ لو کیونکہ ان میں برکت ہے۔
٣٩٢٠ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن الأعمش عن عبد اللَّه بن عبد اللَّه عن ابن أبي ليلى عن البراء عن النبي ﷺ نحوه (١) ولم يذكر: فإنها بركة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
یہ حدیث ایک اور سند سے منقول ہے لیکن اس میں فَإِنَّہَا بَرَکَۃٌ کا ذکر نہیں۔
٣٩٢١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) (هشام) (٢) عن محمد عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا لم تجدوا إلا مرابض المغنم ومعاطن الإبل فصلوا في مرابض المغنم ولا تصلوا في أعطان الإبل" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تمہارے پاس نماز پڑھنے کے لئے سوائے بکریوں کے باڑے اور اونٹوں کے باندھنے کی جگہ کے اور کوئی جگہ نہ ہو تو تم اونٹوں کے باندھنے کی جگہ نماز نہ پڑھو۔
٣٩٢٢ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) قال: (نا) (٢) عبد الملك بن الربيع بن سبرة عن أبيه عن جده: أن رسول اللَّه ﷺ قال: "لا (يصلى) (٣) في أعطان الإبل، ويصلى في مراح المغنم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سبرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اونٹوں کے باندھنے کی جگہ نماز نہیں پڑھی جائے گی البتہ بکریوں کے باندھنے کی جگہ نماز پڑھی جائے گی۔
٣٩٢٣ - حدثنا وكيع عن محمد بن قيس عن جعفر بن أبي ثور عن (جابر) (١) بن سمرة قال: يصلى في مرابض المغنم، ولا يصلى في أعطان الإبل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھی جائے گی لیکن اونٹ باندھنے کی جگہ نماز نہیں پڑھی جائے گی۔
٣٩٢٤ - حدثنا يحيى بن سعيد عن حسين المعلم عن ابن بريدة عن ماعز بن نضلة قال: أتانا (أبو ذر) (١) فدخل زرب غنم لنا فصلى فيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ماعز بن نضلہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ذر ہمارے یہاں تشریف لائے اور بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھی۔
٣٩٢٥ - حدثنا عبدة عن هشام بن عروة قال: حدثني رجل سأل عبد اللَّه بن (عمرو) (١) عن الصلاة في أعطان الإبل قال: فنهاه، وقال: صل في مراح الغنم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اونٹوں کے باندھنے کی جگہ نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اس منع کیا اور فرمایا کہ بکریوں کی جگہ نماز پڑھ سکتے ہو۔
٣٩٢٦ - حدثنا أبو أسامة عن شعبة عن أبي التياح عن أنس قال: كان رسول اللَّه ﷺ يصلي في مرابض المغنم قبل أن يبنى المسجد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کی تعمیر سے پہلے بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کیا کرتے تھے۔
٣٩٢٧ - حدثنا ابن عيينة عن ابن أبي نجيح عن إسماعيل بن عبد الرحمن: أن عمر صلى في مكان فيه دمن (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ حضرت عمرنے ایک ایسی جگہ نماز ادا کی جہاں بکریوں اور اونٹوں کے ٹھہرنے کے آثار تھے۔
٣٩٢٨ - حدثنا (١) عبد الرحمن بن مهدي عن (صخر) (٢) (بن) (٣) جويرية عن عاصم بن المنذر قال: خرج ابن الزبير إلى المزدلفة في غير أشهر الحج فصلى بنا في مراح المغنم، وهو يجد أمكنة سواها لو (يشاء) (٤) (لصلى) (٥) فيها، وما رأيته فعل ذلك إلا ليرينا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن منذر کہتے ہیں کہ حضرت ابن زبیرحج کے مہینوں کے علاوہ کسی اور زمانے میں مزدلفہ گئے، وہاں انہوں نے ہمیں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھائی حالانکہ اور جگہیں بھی تھیں جہاں وہ ہمیں نماز پڑھا سکتے تھے، لیکن میراخیال یہ ہے کہ وہ ہمیں بتانا چاہتے تھے کہ اس جگہ نماز ادا کرنا جائز ہے۔
٣٩٢٩ - حدثنا أبو داود عن الحكم بن عطية قال: سمعت محمدا يقول: كانوا إذا لم يجدوا إلا أن يصلوا في مرابض المغنم ومرابض الإبل (١) صلوا في مرابض المغنم.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ اسلاف کو جب بکریوں کے باڑے اور اونٹوں کے باندھنے کی جگہ کے علاوہ کوئی اور جگہ نہ ملتی تو وہ بکریوں کے باڑے کو ترجیح دیا کرتے تھے۔
٣٩٣٠ - حدثنا ابن نمير عن إسماعيل بن أبي خالد عن إبراهيم قال: صل في دمن المغنم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ بکریوں کے ٹھہرنے کی جگہ نماز پڑھ لو۔
٣٩٣١ - حدثنا محمد بن فضيل عن عباد بن راشد عن الحسن: أنه كان يكره الصلاة في أعطان الإبل، ولا يرى بها بأسا في أعطان المغنم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عباد بن راشد کہتے ہیں کہ حسن اونٹوں کے باندھنے کی جگہ نماز پڑھنے کو مکروہ خیال فرماتے تھے اور بکریوں کے باڑے میں نماز کی ادائیگی میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
٣٩٣٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن أبي (حمزة) (١) قال: سمعت (عبيد) (٢) ابن عمير يقول: إن لي لعناقا تنام معي في (مسجدي) (٣) وتبعر فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر فرماتے تھے کہ میرے پاس ایک بکری کا بچہ ہے جو میری نماز پڑھنے کی جگہ سو جاتا ہے اور وہاں مینگنیاں بھی کردیتا ہے۔
٣٩٣٣ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر عن جندب بن عامر السلمي: أنه كان يصلي في أعطان الإبل ومرابض المغنم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر کہتے ہیں کہ حضرت جندب بن عامر سلمی بکریوں اور اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھا کرتے تھے۔
٣٩٣٤ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عمن سمع جابر بن سمرة يقول: كنا نصلي في مرابض المغنم ولا نصلي في أعطان الإبل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ ہم بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیتے تھے لیکن اونٹوں کے باندھنے کی جگہ نماز نہ پڑھتے تھے۔
٣٩٣٥ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) (هشام) (٢) بن عروة قال: حدثني ⦗٣٥٥⦘ رجل عن عبد اللَّه بن عمرو قال: صلوا في مرابض المغنم ولا تصلوا في أعطان الإبل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لو لیکن اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھو۔
٣٩٣٦ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) ابن أبي خالد عن إبراهيم قال: لا بأس (بالصلاة) (٢) في دمنة المغنم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ بکریوں کے باندھنے کی جگہ نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
٣٩٣٧ - حدثنا وكيع في رجل صلى في أعطان الإبل يجزئه، ولا يتوضأ من لحوم الإبل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وکیع اونٹوں کے احاطے میں نماز پڑھنے کو جائز قرار دیتے تھے اور اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹنے کے قائل بھی نہ تھے۔
٣٩٣٨ - حدثنا عبيد اللَّه قال: (أخبرنا) (١) إسرائيل عن أشعث (بن) (٢) أبي الشعثاء عن جعفر بن أبي ثور عن جابر بن سمرة قال: أمرنا رسول اللَّه ﷺ أن نصلي في مرابض المغنم، ولا نصلي في أعطان الإبل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھیں اور اونٹوں کے احاطے میں نماز نہ پڑھیں۔