کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ آخری دور کعات میں صرف تسبیح پڑھ لو، قراءت کی ضرورت نہیں
٣٧٨١ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) شريك عن أبي إسحاق عن علي وعبد اللَّه أنهما قالا: اقرأ (٢) في الأوليين (٣) وسبّح في الأخريين (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ فرمایا کرتے تھے کہ پہلی دو رکعتوں میں قراءت کرو اور آخری دو رکعتوں میں تسبیح پڑھ لو۔
٣٧٨٢ - حدثنا (أبو الأحوص) (١) عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي أنه قال: يقرأ في (الأوليين) (٢) ويسبح في (الأخريين) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پہلی دو رکعتوں میں قراءت کی جائے اور آخری دو رکعتوں میں تسبیح پڑھ لی جائے۔
٣٧٨٣ - حدثنا جرير عن منصور قال: قلت لإبراهيم: ما تفعل في الركعتين ⦗٣٢٣⦘ الأخريين من (الصلاة) (١)؟ قال: (أسبح) (٢) وأحمد اللَّه وأكبر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے پوچھا کہ نماز کی آخری دو رکعتوں میں کیا کیا جائے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ کی تسبیح بیان کرو، اس کی حمد بیان کرو اور اللہ اکبر کہو۔
٣٧٨٤ - حدثنا ابن إدريس عن الحسن بن عبيد اللَّه عن إبراهيم قال: سبح في الأخريين (١) وكبر.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ آخری دو رکعتوں میں تسبیح وتکبیر کہو۔
٣٧٨٥ - حدثنا حفص بن غياث عن حجاج عن (ابن) (١) الأسود قال: (يقرأ) (٢) في الركعتين الأوليين بـ: فاتحة الكتاب وسورة، وفي (الأخريين) (٣) يسبح ويكبر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن الاسود فرماتے ہیں کہ پہلی دو رکعتوں میں سورۃ ا لفاتحہ اور کوئی سورت پڑھے اور آخری دو رکعتوں میں تسبیح وتکبیر کہے۔
٣٧٨٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: يسبح ويكبر في (الأخريين) (١) تسبيحتين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آخری دو رکعتوں میں دو مرتبہ تسبیح وتکبیر کہے۔