٣١٦١ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر: أنه كان يرد السلام على الإمام (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما امام کے سلام کا جواب دیا کرتے تھے۔
٣١٦٢ - حدثنا وكيع عن (ابن) (١) أبي خالد عن الشعبي قال: إذا سلم الإمام فرد عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جب امام سلام کہے تو اس کے سلام کا جواب دیا جائے گا۔
٣١٦٣ - [حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن أبي إسحاق عن سالم قال: إذا سلم الإمام فرد عليه] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم فرماتے ہیں کہ جب امام سلام کہے تو اس کے سلام کا جواب دیا جائے گا۔
٣١٦٤ - حدثنا ابن إدريس عن الحسن بن عبيد اللَّه قال: قلت لإبراهيم: إن ذرّأ إذا سلم (الإمام) (١) رد عليه. قال: يجزئه أن يسلم عن يمينه وعن يساره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن عبیدا للہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے کہا کہ حضرت ذر بن عبدا للہ کا معمول یہ ہے کہ جب امام سلام پھیرتا ہے تو وہ اس کے سلام کا جواب دیتے ہیں۔ ابراہیم نے فرمایا کہ اس کے لئے اتنا کافی ہے کہ اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیر لے۔
٣١٦٥ - حدثنا إسحاق الأزرق عن جويبر عن الضحاك قال: إذا سلم الإمام فليرد عليه من خلفه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ جب امام سلام پھیرے تو مقتدی اس کے سلام کا جواب دیں گے۔
٣١٦٦ - حدثنا أبو عبد الرحمن المقرئ عن سعيد بن أبي أيوب قال: حدثني أبو عقيل: أنه رأى سعيد بن المسيب (يسلم) (١) عن يمينه وعن يساره، ثم يرد على الإمام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عقیل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن المسیب کو دیکھا کہ انہوں نے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرا اور پھر امام کے سلام کا جواب دیا۔