٣٠٤٥ - حدثنا أبو بكر قال نا غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم عن أبي عبيدة عن أبيه عبد اللَّه بن مسعود: أن رسول اللَّه ﷺ كان إذا قعد في الركعتين (الأوليين) (١) كأنه على (الرضف) (٢)، قلت (٣): حتى يقوم (٤)؟ قال: حتى يقوم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ میرے والد حضرت عبدا للہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلی دو رکعتوں کے بعد اتنی تھوڑی دیر بیٹھتے تھے جیسے گرم پتھر پر بیٹھے ہوں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کھڑے ہونے سے پہلے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں کھڑے ہونے سے پہلے۔
٣٠٤٦ - حدثنا جرير عن منصور عن تميم بن سلمة قال: كان أبو بكر إذا جلس في الركعتين كأنه على الرضف يعني: حتى يقوم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت تمیم بن سلمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر دو رکعتوں کے بعداتنی دیر بیٹھا کرتے تھے جیسے گرم پتھر پر بیٹھے ہوں۔
٣٠٤٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن إبراهيم عن رجل صلى خلف أبي بكر فكان في الركعتين الأوليين كأنه على الجمر حتى يقوم (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک تابعی روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابو بکرکے پیچھے نماز پڑھی، پہلی دورکعات کے بعد اٹھنے سے پہلے وہ اتنی دیر بیٹھے جیسے انگارے پر بیٹھے ہوں۔
٣٠٤٨ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا مغيرة عن إبراهيم: أنه كان يجلس في التشهد في الركعتين قدر التشهد (مترسلًا) (١) ثم يقوم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم دو رکعت پڑھنے کے بعد تشہد میں تیز تشہد پڑھنے کی مقدار بیٹھتے اور پھر کھڑے ہوجاتے۔
٣٠٤٩ - حدثنا ابن فضيل عن يحيى بن سعيد عن عياض بن مسلم عن ابن عمر: أنه كان يقول: ما جعلت الراحة في الركعتين إلا للتشهد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ دو رکعات میں راحت صرف تشہد کے لئے رکھی گئی ہے۔
٣٠٥٠ - حدثنا حفص عن أشعث عن الحسن: أنه كان يقول] (١): لا يزيد في الركعتين (الأوليين) (٢) على التشهد.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرمایا کرتے تھے کہ پہلی دو رکعات کے بعد تشہد پر کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
٣٠٥١ - حدثنا جرير عن نعيم القاري عن مطرف عن الشعبي قال: من زاد في الركعتين (الأوليين) (١) على (التشهد) (٢) فعليه (سجدتا) (٣) (سهو) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جس شخص نے قعدۂ اولیٰ میں تشہد پر کسی چیز کا اضافہ کیا اس پر سجودِ سہو لازم ہے۔
٣٠٥٢ - حدثنا عبد السلام عن بديل عن أبي الجوزاء عن عائشة: أن النبي ﷺ كان يقول في الركعتين: "التحيات" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعات کے بعد التحیات پڑھا کرتے تھے۔