کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: جن حضرات کے نزدیک سجدے کے دوران کہنیوں کو زمین پر ٹیکتا جائز ہے
❮
❯
٢٦٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن خالد الحذاء عن الحكم بن الأعرج قال: أخبرني من رأى أبا ذر مسودا ما بين رسغه إلى (مرفقه) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم بن اعرج فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوذر کی زیارت کرنے والے شخص نے بتایا ہے کہ وہ کلائی اور کہنیوں کے درمیانی حصہ کو زمین پر ٹیکا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2682
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2682، ترقيم محمد عوامة 2672)
٢٦٨٣ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش عن المسيب بن رافع عن عامر بن عبدة قال: قال عبد اللَّه: هيئت عظام ابن آدم (للسجود) (١)، (فاسجدوا) (٢) حتى (بالمرافق) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ ابن آدم کی ہڈیوں کو سجدوں کے لئے بنایا گیا ہے، لہٰذا سجدہ کرو یہاں تک کہ کہنیوں کو بھی سجدہ میں شامل کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2683
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2683، ترقيم محمد عوامة 2673)
٢٦٨٤ - حدثنا يزيد بن هارون عن ابن عون قال: قلت لمحمد: الرجل يسجد يعتمد بمرفقيه على ركبتيه، (فقال) (١): ما أعلم به بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے محمد سے کہا کہ کیا آدمی سجدہ کرتے ہوئے اپنی ہتھیلیوں سے گھٹنوں پر سہارا لے سکتا ہے ؟ فرمایا میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2684
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2684، ترقيم محمد عوامة 2674)
٢٦٨٥ - حدثنا (أبو) (١) عاصم عن ابن جريج عن نافع قال: كان ابن عمر يضم يديه إلى جنبيه إذا سجد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سجدہ کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو پہلوؤں سے ملایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2685
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2685، ترقيم محمد عوامة 2675)
٢٦٨٦ - حدثنا وكيع عن أبيه عن أشعث بن أبي الشعثاء عن قيس بن سكن قال: كل ذلك قد كانوا يفعلون ينضمّون ويتجافون، كان بعضهم ينضم وبعضهم يجافي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن سکن فرماتے ہیں کہ اسلاف یہ تمام کام کیا کرتے تھے، وہ اعضاء کو ملا کر بھی رکھتے تھے اور علیحدہ بھی رکھتے تھے، بعض حضرات اعضاء کو ملا کر رکھتے تھے اور بعض اعضاء کو علیحدہ علیحدہ رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2686
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2686، ترقيم محمد عوامة 2676)
٢٦٨٧ - حدثنا ابن عيينة عن سمي عن النعمان بن أبي عياش قال: شكوا إلى النبي ﷺ الادعام والاعتماد في الصلاة فرخص لهم أن يستعين الرجل بمرفقيه على ركبتيه أو فخذيه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن ابی عیاش فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز میں سہارا لینے کی پابندیوں کی شکایت کی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں رخصت دے دی کہ آدمی اپنی کہنیوں کو گھٹنوں یا رانوں پر رکھ کے سہارا لے سکتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2687
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، أخرجه البيهقي ١/ ١١٧، ومسدد كما في المطالب (٥٠٠)، وأخرجه الحاكم ١/ ٢٢٩ متصلًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2687، ترقيم محمد عوامة 2677)
٢٦٨٨ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا الأعمش عن (حبيب) (١) قال: سأل رجل ابن عمر أضع مرفقي على فخذي إذا سجدت؟ فقال: اسجد كيف تيسر عليك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ کیا میں سجدہ کرتے ہوئے اپنی کہنی کو اپنی ران پر رکھ سکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا جس طرح تمہارے لئے آسان ہو سجدہ کرلو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2688
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2688، ترقيم محمد عوامة 2678)
٢٦٨٩ - حدثنا وكيع عن (شعبة عن) (١) عبد الملك بن ميسرة عن أبي الأحوص قال: قال عبد اللَّه: إذا سجدتم فاسجدوا حتى بالمرافق؛ يعني: يستعين بمرفقيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ جب تم سجدہ کرو تو بھر پور سجدہ کرو، یہاں تک کہ کہنیوں کو بھی سجدے میں شامل کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2689
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسدد كما في المطالب (٥٠١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2689، ترقيم محمد عوامة 2679)