٢٤٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة عن الزهري عن سالم عن أبيه قال: رأيت النبي ﷺ إذا افتتح الصلاة رفع يديه حتى يحاذي منكبيه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز شروع کرتے وقت ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھایا کرتے تھے۔
٢٤٣١ - حدثنا ابن إدريس عن عاصم بن كليب عن أبيه عن وائل بن حجر قال: قدمت المدينة فقلت: لأنظرن إلى صلاة النبي ﷺ، قال: فكبر ورفع يديه حتى رأيت إبهاميه قريبًا من أذنيه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وائل بن حجرکہتے ہیں کہ جب میں مدینہ آیا تو میں نے لوگوں سے کہا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کو دیکھنے کا اشتیاق رکھتا ہوں۔ چناچہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہتے وقت ہاتھوں کو اتنا اٹھایا کہ آپ کے انگوٹھے آپ کے کانوں کے قریب ہوگئے۔
٢٤٣٢ - حدثنا هشيم عن يزيد بن أبي زياد عن (عبد الرحمن) (١) بن أبي ليلى عن البراء بن عازب قال: رأيت النبي ﷺ (حين افتتح الصلاة) (٢) رفع يديه حتى كادتا تحاذيان (أذنيه) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے نماز شروع کرتے وقت ہاتھوں کو اتنا اٹھایا کہ وہ آپ کے کانوں کے برابر ہوگئے۔
٢٤٣٣ - حدثنا ابن نمير عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن نصر بن عاصم عن مالك بن الحويرث قال: رأيت النبي ﷺ رفع يديه حتى يحاذي بهما فروع أذنيه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن حویرث فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں ہاتھوں کو اتنا بلند کرتے دیکھا کہ وہ آپ کے کانوں کے لو کے برابر ہوگئے۔
٢٤٣٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الزبير بن عدي عن إبراهيم عن الأسود: أن عمر كان يرفع (يديه) (١) في الصلاة حذو منكبيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نماز میں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر بلند فرماتے تھے۔
٢٤٣٥ - حدثنا ابن إدريس عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر: أنه كان يرفع يديه حذو منكبيه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز میں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر بلند فرمایا کرتے تھے۔
٢٤٣٦ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: (لا تجاوز باليدين الأذنين في الصلاة) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ نماز میں ہاتھوں کو کانوں سے زیادہ بلند مت کرو۔
٢٤٣٧ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن أبي جعفر قال: لا يجاوز (أذنيه) (١) بيديه في الافتتاح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ کانوں سے زیادہ بلند نہیں ہونے چاہئیں۔
٢٤٣٨ - حدثنا (عباد بن العوام) (١) عن ابن عون عن محمد: أنه كان يرفع يديه حذو منكبيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ محمد نماز میں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر بلند فرمایا کرتے تھے۔
٢٤٣٩ - حدثنا إسحاق بن منصور وعبيد اللَّه عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي ميسرة قال: كان أصحابنا إذا افتتحوا الصلاة رفعوا أيديهم إلى آذانهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو میسرہ فرماتے ہیں کہ ہمارے اصحاب جب نماز شروع کرتے تو ہاتھوں کو کانوں تک اٹھایا کرتے تھے۔
٢٤٤٠ - حدثنا عبدة بن سليمان عن عبد الملك بن أبي سليمان عن عطاء قال: لا تجاوز بيديك أذنيك في دعاء أو غيره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ دعا وغیرہ میں ہاتھوں کو کانوں سے بلند مت کرو۔
٢٤٤١ - حدثنا ابن إدريس عن عاصم بن كليب عن محارب قال: لو رأيت عبد اللَّه بن عمر إذا (قام) (١) إلى الصلاة قال: هكذا، ورفع يديه حذو وجهه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محارب فرماتے ہیں کہ اگر تم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو نماز شروع کرتے ہوئے دیکھا ہوتا تو تم دیکھتے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو چہرے کے برابر رکھا کرتے تھے۔
٢٤٤٢ - حدثنا ابن إدريس عن يحيى بن سعيد عن سليمان بن يسار: أن النبي ﷺ كان يرفع يديه حذو منكبيه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر بلند فرمایا کرتے تھے۔
٢٤٤٣ - حدثنا سفيان بن عيينة عن إسماعيل بن محمد عن الأعرج قال: سمعت أبا هريرة يقول: منكم من يقول: هكذا؛ ورفع سفيان يديه حتى (تجاوز) (١) بهما رأسه، ومنكم من يقول: هكذا؛ ووضع يديه عند بطنه، ومنكم من يقول: هكذا؛ يعني: حذو منكبيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو ہاتھوں کو سر سے بھی زیادہ اونچا کرلیتے ہیں۔ بعض لوگ ایسے ہیں جو ہاتھوں کو پیٹ کے پاس رکھتے ہیں اور بعض لوگ ایسے ہیں جو ہاتھوں کو کندھوں کے برابر بلند کرتے تھے۔
٢٤٤٤ - حدثنا معن بن عيسى عن خالد بن أبي بكر قال: رأيت سالما إذا قام يرفع يديه حذو منكبيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم کو دیکھا کہ وہ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو کندھوں تک ہاتھ بلند کیا کرتے تھے۔
٢٤٤٥ - حدثنا أحمد بن بشير عن مسعر عن ابن أبي ذئب عن سالم: أنه كان يرفع يديه حذو منكبيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ذئب فرماتے ہیں کہ حضرت سالم نماز میں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر بلند فرمایا کرتے تھے۔