کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: جن حضرات کے نزدیک اذان پر اجرت لینا مکروہ ہے
❮
❯
٢٣٩٠ - حدثنا (١) أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث (عن أشعث) (٢) عن الحسن عن عثمان بن أبي العاص قال: آخر ما عهد (إلينا) (٣) النبي ﷺ أن (اتخذ) (٤) ⦗٤٩٢⦘ مؤذنًا لا يأخذ على أذانه أجرًا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن ابی العاص فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس آخری بات کا وعدہ لیا وہ یہ تھی کہ ایسے شخص کو موذن بنانا جو اذان پر اجرت نہ لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2390
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2390، ترقيم محمد عوامة 2384)
٢٣٩١ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن مبارك عن جويبر عن الضحاك؛ أنه كره أن يأخذ المؤذن على أذانه جعلًا، ويقول: إن أعطي بغير مسألة فلا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ موذن اذان پر اجرت لے۔ البتہ بغیر مانگے مل جائے تو کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2391
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2391، ترقيم محمد عوامة 2385)
٢٣٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عون بن موسى عن معاوية بن قرة: أنه (قال) (١): كان (يقال) (٢): لا يؤذن لك إلا محتسب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ تمہارے لیے صرف مخلص شخص ہی اذان دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2392
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2392، ترقيم محمد عوامة 2386)
٢٣٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن عمارة بن زاذان عن يحيى البكاء قال: كنت آخذا بيد ابن عمر وهو يطوف بالكعبة فلقيه رجل من مؤذني الكعبة، فقال: إني لأحبك في اللَّه، فقال ابن عمر: إني لأبغضك في اللَّه؛ إنك تحسن صوتك لأخذ الدراهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
یحییٰ بکاء فرماتے ہیں کہ میں نے دورانِ طواف حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا۔ اتنے میں انہیں کعبہ کا ایک موذن ملا اور اس نے ان سے کہا میں آپ سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں تم سے اللہ کے لیے نفرت کرتا ہوں کیونکہ تم دراہم کے حصول کے لیے آواز کو خوبصورت کرتے ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2393
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عمارة: هو الصيدلاني، صدوق، وهو غير الواسطي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2393، ترقيم محمد عوامة 2387)