حدیث نمبر: 2376
٢٣٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن عليه، ويزيد بن هارون عن هشام الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير عن محمد بن إبراهيم عن عيسى بن طلحة قال: دخلنا على معاوية فجاء المؤذن (فأذن) (١) (فقال) (٢): اللَّه أكبر اللَّه أكبر (٣)، فقال ⦗٤٨٨⦘ معاوية (بن أبي سفيان) (٤)، مثل ذلك (٥)، (فقال: أشهد ألا إله إلا اللَّه، فقال معاوية مثل ذلك، فقال: أشهد أن محمدًا رسول اللَّه، فقال معاوية مثل ذلك) (٦)، ثم قال: هكذا سمعت نبيكم يقول (٧).
مولانا محمد اویس سرور
عیسیٰ بن ابی طلحہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت معاویہ کی خدمت میں حاضر تھے کہ اتنے میں موذن آیا اور اس نے اللَّہُ أَکْبَرُ ، اللَّہُ أَکْبَرُ کہا۔ حضرت معاویہ نے جواب میں یونہی کہا۔ پھر اس نے أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ کہا تو حضرت معاویہ نے بھی یونہی کہا۔ پھر اس نے أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ کہا تو حضرت معاویہ نے بھی یونہی کہا۔ پھر فرمایا کہ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی یونہی فرماتے سنا تھا۔
حدیث نمبر: 2377
٢٣٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو عبد الرحمن المقرئ عن سعيد بن أبي أيوب قال: حدثني كعب بن علقمة عن عبد الرحمن بن جبير عن عبد اللَّه بن عمرو قال: قال النبي ﷺ: "إذا سَمِعْتُمْ المُؤَذِّنَ فَقُولوُا كمَا يَقُولُ" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم موذن کو سنو تو وہی کہو جو وہ کہتا ہے۔
حدیث نمبر: 2378
٢٣٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا زيد بن حباب عن مالك بن أنس عن الزهري عن عطاء بن يؤيد عن أبي سعيد الخدري: أن النبي ﷺ كان يقول مثل ما يقول المؤذن (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہی کلمات کہا کرتے تھے جو موذن کہتا ہے۔
حدیث نمبر: 2379
٢٣٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا [شبابة (عن شعبة) (١) عن أبي بشر عن أم حبيبة -ح- (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام حبیبہ سے بھی یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2380
٢٣٨٠ - وحدثنا عفان قال (١): أنا أبو عوانة] (٢) عن أبي بشر عن أبي المليح عن عبد اللَّه بن عتبة عن أم حبيبة عن النبي ﷺ: أنه كان (٣) إذا سمع المؤذن قال كما يقول، حتى يسكت (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام حبیبہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مؤذن کی آواز سنتے تو وہی کلمات کہا کرتے تھے جو مؤذن کہتا ہے یہاں تک کہ وہ خاموش ہوجائے۔
حدیث نمبر: 2381
٢٣٨١ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان (عن) (١) عاصم بن عبيد اللَّه (عن عبيد اللَّه) (٢) بن عبد اللَّه بن الحارث عن أبيه: أن النبي ﷺ كان يقول مثل ما يقول المؤذن، فإذا بلغ حي على الصلاة حي على الفلاح قال: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوة إلَّا باللَّهِ" (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہی کلمات کہا کرتے تھے جو مؤذن کہتا ہے، البتہ حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ اور حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ کی جگہ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللَّہِ کہا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2382
٢٣٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة عن عمرو عن أبي جعفر محمد بن علي أن النبي ﷺ وإن إذا سمع صوت المنادي يقول: أشهد أن لا إله إلا اللَّه، قال: "وَأَنَا"، وإذا قال: أشهد أن محمدا رسول اللَّه، قال: "وَأَنَا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر محمد بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مؤذن کی آواز سنتے تو أَشْہَدُ أَنْ لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ اور أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ کے جواب میں وانا، وانا کہا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2383
٢٣٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية ووكيع عن هشام بن عروة عن أبيه: أن النبي ﷺ كان إذا سمع المؤذن قال: "وأنا وأنا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موذن کی آواز سن کر وَأَنَا ، وَأَنَا کہا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2384
٢٣٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عمن أخبره عن مجاهد: أنه وإن إذا قال المؤذن: حي على الصلاة قال: المستعان اللَّه، فإذا قال: حي على الفلاح قال: لا حول ولا قوة إلا باللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اوزاعی کہتے ہیں کہ حضرت مجاہد جب حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ سنتے تو الْمُسْتَعَانُ اللَّہُ (مدد تو اللہ سے طلب کی جاتی ہے) کہتے اور جب موذن حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ کہتا تو لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللَّہِ کہا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2385
٢٣٨٥ - [حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن مسعر عن حماد عن إبراهيم قال: من قال مثل ما يقول المؤذن له مثل أجره] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جس نے وہ کلمات کہے جو موذن کہتا ہے تو اس کے لیے موذن کے برابر اجر ہے۔
حدیث نمبر: 2386
٢٣٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو الأحوص عن أبي حمزة عن الحسن قال: إذا سمعت المؤذن فقل كما يقول، فإذا (قال) (١): حي على الصلاة فقل: لا حول ولا قوة إلا باللَّه، فإذا قال: قد قامت الصلاة فقل: اللهم رب هذه الدعوة التامة، والصلاة القائمة أعط محمدا سؤله يوم القيامة، فلن يقولها رجل حين (يقيم) (٢) إلا أدخله اللَّه في شفاعة محمد ﷺ يوم القيامة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب تم موذن کی آواز سنو تو وہی کلمات کہو جو موذن کہتا ہے، البتہ جب وہ حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ کہے تو تم لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللَّہِ کہو۔ جب وہ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ کہے تو تم یہ کلمات کہو : اے اللہ ! اے اس مکمل دعوت اور اس کے بعد کھڑی ہونے والی نماز کے رب ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قیامت کے دن وہ چیز عطا فرما جو انہوں نے تجھ سے مانگی ہے۔ جو شخص بھی اقامت کے وقت یہ دعا مانگے گا اللہ قیامت کے دن اسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت میں داخل فرمائیں گے۔
حدیث نمبر: 2387
٢٣٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة: أن عثمان كان إذا سمع المؤذن (يؤذن) (١) يقول كما يقول في التشهد والتكبير كله، فإذا قال: حي على الصلاة قال: ما شاء اللَّه (و) (٢) لا حول ولا قوة إلا باللَّه، وإذا قال: قد قامت الصلاة قال: مرحبا بالقائلين عدلا، وبالصلاة مرحبا وأهلا، ثم ينهض إلى الصلاة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں حضرت عثمان جب موذن کی آواز سنتے تو تشھد اور تکبیر میں وہی کلمات کہتے جو موذن کہتا ہے البتہ جب وہ حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ کہتا تو وہ مَا شَائَ اللَّہُ ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللَّہِ کہتے اور جب وہ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ کہتا تو آپ یہ کلمات کہتے : عدل اور سچائی کی بات کرنے والوں کو خوش آمدید اور نماز کو خوش آمدید پھر نماز کے لیے اٹھتے۔
حدیث نمبر: 2388
٢٣٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عليه عن الجريري عن عبد اللَّه (بن شقيق) (١) قال: من الجفاء أن تسمع (المؤذن) (٢) يقول (٣): لا إله إلا اللَّه، واللَّه أكبر، ثم لا تجيبه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن شقیق فرماتے ہیں کہ دل کی سختی کی علامت ہے کہ تم موذن کو لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَاللَّہُ أَکْبَرُ کہتے سنو لیکن اس کا جواب نہ دو ۔
حدیث نمبر: 2389
٢٣٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن سفيان عن عاصم عن المسيب بن رافع عن عبد اللَّه قال: من الجفاء (أن) (١) تسمع الأذان، ثم لا تقول مثل ما يقول (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ دل کی سختی کی علامت یہ ہے کہ تم موذن کی آواز سنو پھر وہ کلمات نہ کہو جو وہ کہتا ہے۔