کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: مؤذن کتنے ہونے چاہئیں ایک یا دو ؟
حدیث نمبر: 2330
٢٣٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن بشر وابن نمير عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر: أنه كان لرسول اللَّه ﷺ مؤذنان يؤذنان، زاد فيه ابن نمير: ابن (أم) (١) مكتوم وبلال (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو مؤذن تھے جو اذان دیتے تھے۔ ابن نمیر نے یہ اضافہ نقل کیا ہے : حضرت ابن اُمّ مکتوم اور حضرت بلال۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2330
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (٥٦٨٦)، وإسحاق (٩٣٤)، وأصله عند البخاري (٦١٧)، ومسلم (١٠٩٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2330، ترقيم محمد عوامة 2324)
حدیث نمبر: 2331
٢٣٣١ - حدثنا ابن إدريس عن محمد بن إسحاق عن (الزهري عن السائب بن يزيد) (١) ابن أخت نمر قال: ما كان لرسول اللَّه ﷺ إلا يؤذن واحد يؤذن إذا قعد على المنبر، ويقيم إذا نزل، ثم أبو بكر كذلك، ثم عمر (كذلك) (٢) حتى كان عثمان وفشى الناس وكثروا زاد النداء الثالث عند الزوال أو (الزوراء) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سائب بن یزید کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صرف ایک مؤذن تھے جو اس وقت اذان کہتے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر بیٹھتے اور اس وقت اقامت کہتے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے اترتے۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کا بھی یہی معاملہ تھا۔ جب حضرت عثمان کا زمانہ آیا تو لوگ زیادہ ہوگئے اور ادھر ادھر پھیل گئے لہٰذا انہوں نے زوال کے وقت تیسری اذان کا اضافہ کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأذان والإقامة / حدیث: 2331
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل منقطع حكمًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2331، ترقيم محمد عوامة 2325)