کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اذان ایک شخص دے اور اقامت کوئی دوسرا کہے تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 2262
٢٢٦٢ - حدثنا حفص عن الشيباني عن عبد العزيز بن رفيع قال: رأيت أبا محذورة جاء وقد أذن إنسان فأذن هو وأقام (١).
مولانا محمد اویس سرور
عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو محذورہ کو دیکھا کہ وہ آئے، جبکہ ایک آدمی اذان دے چکا تھا، انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی۔
حدیث نمبر: 2263
٢٢٦٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن حجاج عن شيخ من أهل المدينة عن بعض (بني) (١) مؤذني النبي ﷺ قال: كان ابن (أم) (٢) مكتوم يؤذن ويقيم بلال، وربما أذن بلال وأقام، ابن أم مكتوم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ایک صاحب روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن ام مکتوم اذان کہتے اور حضرت بلال اقامت کہتے تھے اور بعض اوقات حضرت بلال اذان دیتے اور حضرت ابن امِ مکتوم اقامت کہا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2264
٢٢٦٤ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن أشعث عن الحسن قال: لا بأس أن يؤذن الرجل ويقيم غيره.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ اذان کوئی دے اور اقامت کوئی دوسرا کہے۔
حدیث نمبر: 2265
٢٢٦٥ - حدثنا (أبو) (١) أسامة عن (الفزاري) (٢) عن الأوزاعي عن الزهري قال: قال النبي ﷺ: " (إنما) (٣) يُقيمُ مَنْ أَذَّنَ" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اذان دی ہے وہی اقامت کہے۔
حدیث نمبر: 2266
٢٢٦٦ - حدثنا يعلى قال: نا (الأفريقي) (١) عن زياد بن نعيم الحضرمي عن زياد بن الحارث الصدائي قال: كنت مع النبي ﷺ في سفر فأمرني فأذنت فأراد بلال أن يقيم، فقال النبي ﷺ: "إنَّ (أَخَا) (٢) (صُداءٍ) (٣) أَذَّنَ، (وَمَنْ أَذَّنَ) (٤) فَهْوَ يُقيمُ"، فأقمت (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن حارث صدائی کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ میں نے اذان دی۔ حضرت بلال نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ صداء کے بھائی نے اذان دی ہے، جو اذان دے وہی اقامت کہے۔ چناچہ پھر میں نے اقامت کہی۔