حدیث نمبر: 2236
٢٢٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن علي بن المبارك الهنائي عن (الحسن العبدي) (١) قال: رأيت أبا زيد صاحب رسول اللَّه ﷺ وكانت رجله أصيبت في سبيل اللَّه- يؤذن وهو قاعد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن عبدی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی حضرت ابو زید کو دیکھا، ان کا پاؤں راہِ خدا میں لڑتے ہوئے حادثے کا شکار ہوگیا تھا۔ وہ بیٹھ کر اذان دیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2237
٢٢٣٧ - [حدثنا حفص عن حجاج عن أبي إسحاق قال: كانوا يكرهون أن يؤذن الرجل وهو قاعد] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ اسلاف بیٹھ کر اذان دینے کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 2238
٢٢٣٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن عطاء: [أنه كره أن يؤذن وهو قاعد إلا من عذر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ بلا عذر بیٹھ کر اذان دینا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 2239
٢٢٣٩ - حدثنا عمر بن هارون عن (ابن جريج) (١) عن عطاء] (٢) قال: قلت له: يؤذن الرجل وهو قاعد؟ قال: (لا) (٣)، إلا من علة، قلت: فمن نعاس أو كسل؟ قال: لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ کیا آدمی بیٹھ کر اذان دے سکتا ہے ؟ فرمایا نہیں البتہ کوئی عذر ہو تو جائز ہے۔ میں نے پوچھا کہ اونگھ یا سستی کی وجہ سے ؟ فرمایا نہیں۔