کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کپڑے سے خون دھونے کے باوجود اگر اس کا نشان باقی رہ جائے تو کیا حکم
حدیث نمبر: 2092
٢٠٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن نمير عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر (عن نافع) (٢) عن ابن عمر: أنه رأى في ثوبه دمًا، فغسله، فبقي أثره أسود، ودعى بمقص (فقصه) (٣)، فقرضه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے کپڑوں پر خون کا نشان دیکھا تو اسے دھو دیا، لیکن اس پر سیاہ نشان باقی رہ گیا۔ آپ نے قینچی منگوا کر اسے کاٹ دیا۔
حدیث نمبر: 2093
٢٠٩٣ - حدثنا وكيع عن حريث عن الشعبي قال: إذا غسلت الدم، فبقي أثره فلا يضرك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جب تم خون کو دھو دو تو اس کا نشان باقی رہ جانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
حدیث نمبر: 2094
٢٠٩٤ - حدثنا وكيع عن الفضل بن دلهم عن الحسن: مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے بھی یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2095
٢٠٩٥ - حدثنا وكيع عن علي بن مبارك عن كريمة ابنة همام قالت: سمعت عائشة وسئلت عن دم (الحيض) (١) يصيب الثوب فقالت: اغسليه، فقالت: غسلته فلم يذهب أثره، فقالت: اغسليه، فإن الماء طهور (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک عورت نے سوال کیا کہ اگر حیض کا خون کپڑوں پر لگ جائے تو کیا حکم ہے ؟ فرمایا اسے دھو لو، اس عورت نے سوال کیا کہ میں اسے دھوتی ہوں لیکن اس کا داغ نہیں جاتا ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اسے دھو لو، پانی پاکی کا ذریعہ ہے۔