کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کپڑوں یا موزوں پر لید یا گوبر وغیرہ لگ جائیں تو کیا حکم
حدیث نمبر: 2032
٢٠٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن ليث عن زبيد والأعمش قالا: كان إبراهيم ينتهي إلى باب المسجد (في) (١) نعليه أو في خفيه السرقين، فيمسحهما، ثم يدخل، فيصلي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبید اور حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ ابراہیم مسجد کے دروازے پر پہنچتے اور ان کے جوتوں یا موزوں پر لید وغیرہ لگی ہوتی تو اسے صاف کر کے مسجد میں داخل ہوتے۔
حدیث نمبر: 2033
٢٠٣٣ - حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن عاصم بن المنذر: (سألت) (١) عروة بن الزبير عن الروث يصيب النعل؟ قال: امسحه، وصل فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن منذر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عروہ بن زبیر سے سوال کیا کہ اگر جوتی پر مینگنی لگ جائے تو کیا حکم ہے ؟ فرمایا اسے پونچھ کر نماز پڑھ لو۔
حدیث نمبر: 2034
٢٠٣٤ - حدثنا وكيع عن مسعر عن ثابت بن عبيد قال: رأيته يحك، نعله أو خفه على باب المسجد قال: يذكر أنه طهور.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسعر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ثابت بن عبید کو دیکھا کہ مسجد کے دروازے پر اپنی جوتی یا موزے کو رگڑ رہے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ پاکی کا ذریعہ ہے۔
حدیث نمبر: 2035
٢٠٣٥ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن مغيرة عن حماد قال: كانوا يشتدون في الروث الرطب إذا كان في الخف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اسلاف کا معمول تھا کہ اگر تر مینگنی موزے پر لگ جاتی تو اسے خوب صاف کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2036
٢٠٣٦ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر عن عبد الكريم قال: كان عزيزًا على طاوس إذا دخل المسجد أن لا يقلب خفه، أو نعله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالکریم فرماتے ہیں کہ حضرت طاؤس کو یہ بات بہت گراں گزرتی تھی کہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد موزے یا جوتے کو صاف نہ کریں۔