کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جن حضرات کے نزدیک پاؤں دھونا بھی ضروری نہیں
حدیث نمبر: 1985
١٩٨٥ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا يونس ومنصور عن الحسن أنه كان يقول: إذا مسح على خفيه بعد الحدث، ثم خلعهما: أنه على طهارة؛ فليصل.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرمایا کرتے تھے کہ اگر ایک آدمی نے بےوضو ہونے کے بعد موزوں پر مسح کیا پھر انہیں اتار دیا تو وہ پاک ہے لہٰذا نماز پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1985
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1985، ترقيم محمد عوامة 1979)
حدیث نمبر: 1986
١٩٨٦ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا مغيرة، والأعمش عن فضيل بن عمرو عن إبراهيم: أنه رأى إبراهيم فعل ذلك، ثم خلع خفيه قال: ثم صلى، ولم يتوضأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضیل بن عمرو فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے موزے اتارے پھر نماز پڑھ لی اور وضو نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1986
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1986، ترقيم محمد عوامة 1980)
حدیث نمبر: 1987
١٩٨٧ - حدثنا أبو أسامة عن إسماعيل عن عمرو بن دينار عن طاوس: في الرجل يمسح، ثم يخلع قال: كان يقول: هو على طهارة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مسح کرنے کے بعد موزے اتار دے تو وہ پاک ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1987
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1987، ترقيم محمد عوامة 1981)
حدیث نمبر: 1988
١٩٨٨ - حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث عن سعيد بن زيد عن كثير بن شنظير قال: سألت الحسن، وعطاء عن رجل توضأ، ومسح على خفيه، ثم خلعهما؟ (قالا: يصلي) (١)، ولا يغسل قدميه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کثیر بن شنظیر فرماتے ہیں کہ میں نے حسن اور حضرت عطاء سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص وضو کرے، موزوں پر مسح کرے اور پھر موزے اتار دے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا وہ نماز پڑھ لے اور پاؤں نہ دھوئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1988
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1988، ترقيم محمد عوامة 1982)