کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: موزوں پر مسح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1870
١٨٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) هشيم بن بشير قال: أخبرنا داود بن عمرو عن بسر بن (عبيد اللَّه) (٢) الحضرمي عن أبي إدريس الخولاني قال: حدثنا عوف بن مالك الأشجعي: أن رسول اللَّه ﷺ أمر بالمسح على الخفين في غزوة ⦗٣٧٧⦘ تبوك (٣) ثلاثة أيام ولياليهن للمسافر، ويوم وليلة للمقيم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوف بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ تبوک میں مسافر کے لیے تین دن تین رات اور مقیم کے لیے ایک دن ایک رات تک مسح کا حکم فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1870
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن، أخرجه الطحاوي ١/ ٨٢، والبيهقي ١/ ٢٧٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1870، ترقيم محمد عوامة 1864)
حدیث نمبر: 1871
١٨٧١ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا منصور عن (ابن) (١) سيرين عن أفلح مولى أبي أيوب: عن أبي أيوب أنه كان يأمر بالمسح على الخفين، وكان هو يغسل قدميه، فقيل له في ذلك: كيف تأمر بالمسح، وأنت تغسل؟ فقال: بئس (ما لي) (٢) إن كان (مهنأة) (٣) لكم، ومأثمة علي قد رأيت رسول اللَّه ﷺ يفعله، ويأمر به، ولكن حبب إلي الوضوء (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت افلح فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ایوب موزوں پر مسح کا حکم دیا کرتے تھے لیکن خود پاؤں دھویا کرتے تھے۔ ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ لوگوں کو موزوں پر مسح کا حکم دیتے ہیں لیکن خود پاؤں دھوتے ہیں ؟ فرمانے لگے کہ میں اسے تمہارے لیے گنجائش اور اپنے لیے گناہ سمجھتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موزوں پر مسح کا حکم دیتے اور پاؤں دھوتے دیکھا ہے اور مجھے بھی وضو ہی پسند ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1871
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه ابن المنذر في الأوسط (٤٤٩) والحارث كما في البغية (٧٦) والطبراني (٣٩٨٢)، والبيهقي ١/ ٢٩٣، وأحمد (٢٣٥٧٣) وسيأتى ١٩١٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1871، ترقيم محمد عوامة 1865)
حدیث نمبر: 1872
١٨٧٢ - حدثنا هشيم قال: أنا الأعمش عن أبي وائل عن حذيفة قال: رأيت رسول اللَّه ﷺ أتى سباطة قوم، فبال (عليها) (١)، فأتيته بماء، فتوضأ، ومسح على خفيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ پر تشریف لائے۔ آپ نے پیشاب کیا۔ پھر میں آپ کے لیے پانی لایا آپ نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1872
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٢٧٣) وأحمد (٢٣٢٤١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1872، ترقيم محمد عوامة 1866)
حدیث نمبر: 1873
١٨٧٣ - حدثنا هشيم قال أنا (١) حصين عن سالم بن أبي الجعد، وعن أبي سفيان، أنهما سمعا المغيرة بن شعبة يحدث قال: كنت مع رسول اللَّه (في سفر) (٢) ⦗٣٧٨⦘ فبرز لحاجته فلما فرغ، أتيته بإداوة فيها ماء، (فصب) (٣) عليه، وكان عليه جبة ضيقة الكمين قال: فأخرج يده من تحت الجبة، فغسل ذراعيه، ومسح على خفيه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ رفع حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ جب فارغ ہوئے تو میں آپ کے پاس پانی کا ایک برتن لایا۔ آپ نے اس میں سے پانی لیا۔ آپ نے تنگ آستینوں والا ایک جُبَّہ زیب تن فرما رکھا تھا۔ آپ نے جبّہ کے نیچے سے بازو نکال کر بازو دھوئے اور پاؤں پر مسح فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1873
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وتقدم [١١٤٤]، وأخرجه الطبراني ٢٠/ (٩٧٢)، وانظر: العلل للدارقطني ٧/ ٩٦، والعلل لابن أبي حاتم (٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1873، ترقيم محمد عوامة 1867)
حدیث نمبر: 1874
١٨٧٤ - حدثنا أبو معاوية (و) (١) وكيع عن الأعمش عن إبراهيم عن همام قال: (بال) (٢) جرير بن عبد اللَّه، وتوضأ، ومسح على خفيه، فقيل له: أتفعل هذا؟ فقال: وما يمنعني، قد رأيت رسول اللَّه ﷺ يفعله، قال إبراهيم: فكان (يعجبنا) (٣) حديث جرير؛ لأن إسلامه كان بعد نزول المائدة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہمام فرماتے ہیں کہ حضرت جریر بن عبداللہ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور موزوں پر مسح فرمایا۔ ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ ایسا کرتے ہیں ؟ فرمایا کہ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے تو میں ایسا کیوں نہ کروں ؟ ابراہیم فرماتے ہیں کہ ہمیں حضرت جریر کی حدیث سے تعجب ہوتا تھا کیونکہ ان کے قبول اسلام کا زمانہ سورة مائدہ کے نزول کے بعد کا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1874
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٣٨٧) ومسلم (٢٧٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1874، ترقيم محمد عوامة 1868)
حدیث نمبر: 1875
١٨٧٥ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) عن معاوية بن صالح قال: حدثنا (ضمرة) (٢) (ابن حبيب) (٣) عن جرير بن عبد اللَّه قال: قدمت على رسول اللَّه ﷺ بعد نزول سورة المائدة، فرأيته يمسح على الخفين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں سورة مائدہ کے نزول کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کو موزوں پر مسح کرتے دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1875
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ معاوية فيه لين، وأخرجه الدارقطني ١/ ١٩٣ وتقدم [١٨٧٣].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1875، ترقيم محمد عوامة 1869)
حدیث نمبر: 1876
١٨٧٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم عن مسروق عن المغيرة بن شعبة قال: كنت مع النبي ﷺ في سفر فقال: "يا مغيرة خذ الإداوة"، (قال) (١): ⦗٣٧٩⦘ فأخذتها، ثم خرجت معه، فانطلق رسول اللَّه ﷺ حتى توارى عني، فقضى حاجته، ثم جاء، وعليه جبة شامية ضيقة الكمين، فذهب ليخرج يده من كمها، فضاقت، فأخرج يده من أسفلها، فصببت عليه، فتوضأ وضوءه للصلاة، ثم مسح على خفيه، ثم صلى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اے مغیرہ ! برتن لے کر چلو۔ میں برتن لے کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھپ گئے اور آپ نے رفع حاجت فرمائی۔ پھر آپ تشریف لے آئے اور آپ نے تنگ آستینوں والا جبہ زیب تن فرما رکھا تھا۔ آپ اس میں سے ہاتھ نکالنے لگے لیکن تنگ ہونے کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوا۔ پھر آپ نے جبّہ کے اندر سے ہاتھ نکال کر وضو کیا، پھر موزوں پر مسح کر کے آپ نے نماز ادا فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1876
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وتقدم [١١٤٤].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1876، ترقيم محمد عوامة 1870)
حدیث نمبر: 1877
١٨٧٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن الحكم عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن كعب بن عجرة عن بلال: أن رسول اللَّه ﷺ مسح على الخفين، والخمار (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بلال فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے موزوں پر اور اوڑھنی پر مسح فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1877
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٢٧٥) وأحمد (٢٣٨٨٤) وسيأتي ١٤/ ١٦٢ برقم [٣٨٨٥١].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1877، ترقيم محمد عوامة 1871)
حدیث نمبر: 1878
١٨٧٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن أبيه: أن رسول اللَّه ﷺ لما كان يوم فتح مكة توضأ، ومسح على خفيه، فقال (١) عمر: يا رسول اللَّه رأيتك اليوم صنعت شيئا لم تكن لتصنعه قبل اليوم؟! فقال: "يا عمر (عمدا) (٢) صنعته" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن بریدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح فرمایا۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو آج ایسا کام کرتے دیکھا ہے جو آپ نے اس سے پہلے کبھی نہیں کیا ! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمر ! میں نے یہ کام جان بوجھ کر کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1878
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٢٧٧) وأبو داود (١٧٢) والترمذي (٦١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1878، ترقيم محمد عوامة 1872)
حدیث نمبر: 1879
١٨٧٩ - حدثنا وكيع عن دلهم بن صالح عن حجير بن عبد اللَّه الكندي عن ابن بريدة عن أبيه: أن النجاشي أهدى (إلى) (١) النبي ﷺ خفين ساذجين أسودين، فلبسهما، ثم توضأ، ومسح عليهما (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابن بریدہ فرماتے ہیں کہ نجاشی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو عمدہ اور سیاہ موزے تحفہ بھجوائے۔ آپ نے انہیں پہنا، پھر وضو کر کے ان پر مسح فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1879
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1879، ترقيم محمد عوامة 1873)
حدیث نمبر: 1880
١٨٨٠ - حدثنا ابن علية عن هشام الدستوائي قال: حدثنا حماد عن إبراهيم عن (أبي عبد اللَّه الجدلي) (١) عن خزيمة بن ثابت [أن رسول اللَّه ﷺ كان يقول: "المسح للمسافر ثلاثة وللمقيم يوم وليلة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خزیمہ بن ثابت روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ مسافر کے لیے موزوں پر مسح تین دن تین رات اور مقیم کے لیے ایک دن ایک رات ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1880
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1880، ترقيم محمد عوامة 1874)
حدیث نمبر: 1881
١٨٨١ - حدثنا أبو الأحوص عن منصور عن إبراهيم التيمي عن عمرو بن ميمون عن أبي عبد اللَّه الجدلي عن خزيمة بن ثابت] (١) قال: جعل رسول اللَّه ﷺ للمسافر يمسح ثلاثًا، ولو استزدناه لزادنا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خزیمہ بن ثابت روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسافر کے لیے مسح کی مدت کو تین دن قرار دیا۔ اگر ہم زیادہ کا مطالبہ کرتے تو آپ اس کو بڑھا دیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1881
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد ٥/ ٢١٤، وابن ماجه (٥٥٣) والطبراني (٣٧٤٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1881، ترقيم محمد عوامة 1875)
حدیث نمبر: 1882
١٨٨٢ - حدثنا الفضل بن دكين عن سفيان عن أبيه عن إبراهيم التيمي عن عمرو بن ميمون عن أبي عبد اللَّه الجدلي عن خزيمة بن ثابت قال: جعل رسول اللَّه ﷺ المسح على الخفين ثلاثة أيام للمسافر، ويوما للمقيم، ولو مضى السائل في (مسألتة) (١) لجعلها خمسا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خزیمہ بن ثابت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسافر کے لیے موزوں پر مسح کی مدت تین دن تین رات اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات قرار دی۔ اگر سوال کرنے والا اس سے زیادہ کی درخواست کرتا تو آپ اس مدت کو پانچ دن تک بڑھا دیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1882
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (٢١٨٧١) والترمذي (٩٥) وابن حبان (١٣٢٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1882، ترقيم محمد عوامة 1876)
حدیث نمبر: 1883
١٨٨٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حجاج بن أرطاة عن يحيى بن عبيد (البهراني) (١) عن محمد بن سعد قال: وكان يتوضأ (بالراوية) (٢) فخرج علينا ذات يوم من البراز، فتوضأ، ومسح على خفيه، فتعجبنا! وقلنا: ما هذا؟ فقال: حدثني ⦗٣٨١⦘ أبي: أنه رأى رسول اللَّه ﷺ فعل مثل ما فعلت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن عبید فرماتے ہیں کہ حضرت محمد بن سعد ایک گوشے میں وضو کیا کرتے تھے۔ ایک دن وہ رفع حاجت کے بعد تشریف لائے، آپ نے وضو کیا اور موزوں پر مسح فرمایا تو ہمیں بہت تعجب ہوا۔ ہم نے کہا کہ یہ کیا ہے ؟ فرمانے لگے کہ ہمیں ہمارے والد نے بتایا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی یونہی کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1883
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1883، ترقيم محمد عوامة 1877)
حدیث نمبر: 1884
١٨٨٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن القاسم بن مخيمرة عن شريح بن هانئ (الحارثي) (١) قال: سألت عائشة عن المسح؟ فقالت: ائت عليا، فإنه أعلم بذلك مني (فاسأله) (٢)، فأتيت عليا، فسألته عن (المسح؟) (٣)، فقال: كان رسول اللَّه ﷺ يأمرنا أن يمسح المقيم يوما وليلة، والمسافر ثلاثًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسح کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کرو کیونکہ وہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ مقیم ایک دن ایک رات اور مسافر تین دن تین رات موزوں پر مسح کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1884
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (٢١٨٧١) ومسلم (٢٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1884، ترقيم محمد عوامة 1878)
حدیث نمبر: 1885
١٨٨٥ - حدثنا ابن عيينة عن عاصم عن زر قال (أتيت) (١) صفوان بن عسال المرادي فقال: ما جاء بك؟ (قلت) (٢): ابتغاء العلم قال: فإن الملائكة تضع أجنحتها لطالب العلم. قال: وكان رسول اللَّه ﷺ إذا كنا في سفر أمرنا أن لا ننزع أخفافنا ثلاثة أيام إلا من جنابة ولكن من غائط (و) (٣) بول ونوم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ذرّ فرماتے ہیں کہ میں صفوان بن عسّال مرادی کے پاس حاضر ہوا۔ انہوں نے پوچھا کہ تم کیوں آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ علم کی تلاش میں۔ فرمایا کہ فرشتے طالب علم کے پاؤں کے نیچے اپنے پر بچھاتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ جب ہم کسی سفر میں ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں اس بات کا حکم دیتے تھے کہ ہم سوائے حالتِ جنابت کے تین دن تک موزے نہ اتاریں۔ لہٰذا بول و براز اور نیند میں مشغول کیوں نہ ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1885
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ رواية عاصم عن زر يخطئ فيها، أخرجه أحمد (٤/ ٢٣٩) والنسائي ١/ ٨٣ وابن ماجه (٤٧٨) والترمذي (٩٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1885، ترقيم محمد عوامة 1879)
حدیث نمبر: 1886
١٨٨٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: حدثنا أيوب عن أبي قلابة عن أبي إدريس عن بلال قال: رأيت رسول اللَّه ﷺ يمسح على الموقين، والخمار (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بلال فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موزوں کے اوپر پہنی ہوئی جرابوں اور اوڑھنی پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1886
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1886، ترقيم محمد عوامة 1880)
حدیث نمبر: 1887
١٨٨٧ - حدثنا يونس عن داود بن أبي الفرات عن (محمد بن زيد) (١) عن أبي شريح عن أبي مسلم مولى زيد بن صوحان قال: كنت مع سلمان، فرأى رجلا ينزع خفيه للوضوء، فقال له سلمان: امسح على خفيك، وعلى خمارك، وامسح بناصيتك، فإني رأيت رسول اللَّه ﷺ يمسح على الخفين (والخمار) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مسلم فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت سلمان کے ساتھ تھا۔ انہوں نے ایک آدمی کو موزے اتار کر وضو کرتے دیکھا تو فرمایا کہ موزوں پر، اوڑھنی پر اور پیشانی پر مسح کرو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اوڑھنی پر مسح کرتے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1887
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1887، ترقيم محمد عوامة 1881)
حدیث نمبر: 1888
١٨٨٨ - حدثنا يحيى بن إسحاق حدثنا يحيى بن أيوب عن (عبد الرحمن) (١) ابن (رزين) (٢) عن محمد بن يزيد بن أبي زياد عن أيوب بن قطن الكندي عن (أبي) (٣) بن (عمارة) (٤) الأنصاري -قال: وكان رسول اللَّه ﷺ قد صلى في بيته للقبلتين (٥) - قال: قلت: يا رسول اللَّه أمسح على الخفين؟ قال: "نعم"، (وقال) (٦): قلت: يا رسول اللَّه يوما؟ قال: "نعم، ويومين"، قلت: يا رسول اللَّه يومين؟ قال: "نعم، وثلاثة"، قال: قلت: يا رسول اللَّه: وثلاثة؟ قال: "نعم وما شئت" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی بن عمارہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کمرے میں دونوں قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز ادا فرمائی۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کیا میں موزوں پر مسح کرسکتا ہوں ؟ فرمایا ” ہاں “ میں نے عرض کیا ” یا رسول اللہ ! کیا ایک دن تک ؟ “ فرمایا ” ہاں، اور دو دن تک “ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اور دو دن تک ؟ “ فرمایا ” ہاں اور تین دن تک “ میں نے عرض کیا ” یا رسول اللہ ! اور کیا تین دن تک ؟ “ فرمایا ہاں ! جب تک تم چاہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1888
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1888، ترقيم محمد عوامة 1882)
حدیث نمبر: 1889
١٨٨٩ - حدثنا ابن عيينة عن إسماعيل بن محمد عن حمزة بن المغيرة عن أبيه: (أن رسول اللَّه ﷺ قضى حاجته، ثم جاء فتوضأ (١)، ومسح على خفيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رفعِ حاجت فرمائی پھر وضو کرتے ہوئے موزوں پر اور سر پر مسح فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1889
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وتقدم [١٨٧٣].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1889، ترقيم محمد عوامة 1883)
حدیث نمبر: 1890
١٨٩٠ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) عن خالد بن أبي (بكر) (٢) (قال) (٣): أخبرني سالم بن عبد اللَّه عن أبيه: أن عمر بن الخطاب سأله سعد بن أبي وقاص عن المسح على الخفين (فقال عمر: سمعت النبي ﷺ يأمر بالمسح على الخفين) (٤) (٥) إذا (لبسهما) (٦) وهما (طاهرتان) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص نے حضرت عمر بن خطاب سے موزوں پر مسح کے بارے میں سوال کیا تو حضرت عمر نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موزوں پر مسح کا حکم دیتے تھے، بشرطیکہ انہیں پاک حالت میں پہنا گیا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1890
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1890، ترقيم محمد عوامة 1884)
حدیث نمبر: 1891
١٨٩١ - حدثنا الفضل بن دكين ويحيى بن آدم عن حسن بن صالح عن عاصم عن سالم عن ابن عمر عن عمر قال: رأيت رسول اللَّه ﷺ يمسح على الخفين بالماء في السفر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سفر میں پانی سے موزوں پر مسح کرتے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1891
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف، وتقدم [١٨٩١].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1891، ترقيم محمد عوامة 1885)
حدیث نمبر: 1892
١٨٩٢ - حدثنا معاوية بن هشام عن شيبان عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة أن جعفر بن عمرو بن أمية أخبره أن أباه أخبره: أنه رأى النبي ﷺ يمسح على الخفين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن امیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1892
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن، وأخرجه البخاري (٢٠٥) وأحمد (١٧٢٤٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1892، ترقيم محمد عوامة 1886)
حدیث نمبر: 1893
١٨٩٣ - حدثنا محمد بن مصعب قال: حدثنا الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن جعفر بن عمرو بن (أمية) (١) عن أبيه: أن النبي ﷺ مسح على الخفين، والعمامة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن امیہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے موزوں اور عمامہ پر مسح فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1893
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن مصعب صدوق، تقدم [٢٣١].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1893، ترقيم محمد عوامة 1887)
حدیث نمبر: 1894
١٨٩٤ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن عبد العزيز بن رفيع عن علي بن ربيعة قال: (خطبنا) (١) المغيرة بن شعبة فقال (يا) (٢) أيها الناس إني كنت مع النبي ﷺ في ركب، فنزل، فقضى حاجته، فأتيته بماء، فتوضأ، ومسح على خفيه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن شعبہ نے ایک مرتبہ خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! ایک مرتبہ ایک سفر میں میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ رفع حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ میں آپ کے لیے پانی لایا آپ نے وضو کیا اور موزوں پر مسح فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1894
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وتقدم [١٨٧٣].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1894، ترقيم محمد عوامة 1888)
حدیث نمبر: 1895
١٨٩٥ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن محمد بن سيرين عن عمرو (بن وهب) (١) الثقفي عن المغيرة بن شعبة: أن النبي ﷺ ذهب ليحسر يده، وعليه جبة شامية ضيقة الكمين فأخرج يده من تحتها اخراجا، فغسل وجهه، ويديه (ثم) (٢) مسح بناصيته (مسح على العمامة) (٣) ومسح على الخفين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تنگ آستینوں والا شامی جبّہ زیب تن فرما رکھا تھا۔ اس کے آستینوں کے تنگ ہونے کی وجہ سے آپ نے ہاتھوں کو نیچے سے نکالا۔ پھر اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھویا، پھر پیشانی کا مسح فرمایا اور پگڑی اور موزوں کا مسح فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1895
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٣٦٣) ومسلم (٢٧٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1895، ترقيم محمد عوامة 1889)
حدیث نمبر: 1896
١٨٩٦ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: حدثنا عبد الوهاب قال: حدثنا (المهاجر) (٢) مولى البكرات عن عبد الرحمن بن أبي (بكرة) (٣) عن أبيه: أن ⦗٣٨٥⦘ النبي ﷺ جعل للمسافر يمسح ثلاثة أيام ولياليهن، وللمقيم يوما وليلة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بکرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن تین رات اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات مسح کی مدت مقرر فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1896
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ المهاجر مختلف فيه، لينة أبو حاتم وقال ابن معين: صالح، أخرجه ابن ماجه (٥٥٦)، وابن حبان (١٣٢٤)، وابن خزيمة (١٩٢)، وابن الجارود (٨٧)، والدارقطني (٧٨٢)، والبيهقي ١/ ٢٧٦، والعقيلي ٤/ ٢٠٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1896، ترقيم محمد عوامة 1890)
حدیث نمبر: 1897
١٨٩٧ - حدثنا هشيم قال: أنا يزيد بن أبي زياد قال: نا (زيد) (١) (بن وهب) (٢) قال: كتب (إلينا) (٣) عمر بن الخطاب في المسح على الخفين ثلاثة أيام ولياليهن للمسافر، ويوما وليلة للمقيم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن وھب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے موزوں پر مسح کے بارے میں ہماری طرف ایک خط لکھا جس میں فرمایا کہ موزوں پر مسح کی مدت مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات مقرر فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1897
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال يزيد بن أبي زياد، أخرجه عبد الرزاق (٧٩٧) والطحاوي ١/ ٨٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1897، ترقيم محمد عوامة 1891)
حدیث نمبر: 1898
١٨٩٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن أبي مالك الأشجعي عن أبي حازم عن ابن عمر أن عمر بن الخطاب قال -في المسح على الخفين: للمسافر ثلاث، وللمقيم يوم إلى الليل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے موزوں پر مسح کی مدت مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں جبکہ مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات مقرر فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1898
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وانظر: [١٨٩٧].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1898، ترقيم محمد عوامة 1892)
حدیث نمبر: 1899
١٨٩٩ - حدثنا أبو الأحوص عن عمران بن مسلم قال: قلنا لنباتة الجعفي -وكان أجرأنا على عمر- (سله) (١) عن المسح على الخفين، فسأله؟، فقال: للمسافر ثلاثة أيام، وللمقيم يوم وليلة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن مسلم فرماتے ہیں کہ نباتہ جعفی ہم سب سے حضرت عمر سے بےخطر رہتے تھے ہم نے نباتہ جعفی سے کہا کہ حضرت عمر سے موزوں پر مسح کی مدت کے بارے میں سوال کرو۔ حضرت عمر سے سوال کیا گیا تو انہوں نے مسافر کے لیے تین دن اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات قرار دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1899
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه عبد الرزاق (٧٩٤) والطحاوي ١/ ٨٣، والبيهقي ١/ ٢٧٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1899، ترقيم محمد عوامة 1893)
حدیث نمبر: 1900
١٩٠٠ - حدثنا وكيع قال: نا جرير (بن) (١) أيوب عن أبي زرعة بن عمرو قال: رأيت (جريرا) (٢) مسح على خفيه. قال: وقال أبو زرعة قال: أبو هريرة: قال ⦗٣٨٦⦘ رسول اللَّه ﷺ: " (إذا أدخل) (٣) أحدكم رجليه في خفيه وهما طاهرتان، فليمسح عليهما ثلاثًا للمسافر، ويوما للمقيم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص پاؤں کے پاک ہونے کی حالت میں موزے پہنے تو ان پر مسافر تین دن اور مقیم ایک دن مسح کرسکتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1900
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا، جرير بن أيوب منكر الحديث، وقد ورد الخبر من طريق آخر عن أبي هريرة أخرجه الترمذي في العلل (٦١)، وابن ماجه (٥٥٥)، وابن عدي ٣/ ٣٨٩، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ١/ ٢٠١، وابن الجوزي في التحقيق (٢٣٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1900، ترقيم محمد عوامة 1894)
حدیث نمبر: 1901
١٩٠١ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا مغيرة عن إبراهيم أن عمر بن الخطاب، وسعد بن مالك، وابن مسعود كانوا يمسحون على الخفين (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ، حضرت سعد بن مالک اور حضرت ابن مسعود موزوں پر مسح کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1901
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1901، ترقيم محمد عوامة 1895)
حدیث نمبر: 1902
١٩٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن مجالد عن الشعبي قال: سألت ابن عمر عن المسح على الخفين؟ فقال: امسح عليهما (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے موزوں پر مسح کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ان پر مسح کیا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1902
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف مجالد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1902، ترقيم محمد عوامة 1896)
حدیث نمبر: 1903
١٩٠٣ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا مغيرة عن إبراهيم قال: مسح أصحاب النبي ﷺ على الخفين، فمن ترك ذلك رغبة (عنه) (١) فإنما هو من الشيطان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نے فرمایا کہ صحابہ کرام نے موزوں پر مسح کیا ہے اگر کوئی شخص ان سے اعراض کرتے ہوئے موزوں پر مسح نہیں کرتا تو یہ شیطانی عمل ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1903
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1903، ترقيم محمد عوامة 1897)
حدیث نمبر: 1904
١٩٠٤ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا حصين عن محارب عن ابن عمر قال: اختلفت أنا وسعد بالقادسية في المسح على الخفين، فقال سعد: امسح عليهما، وأنكرت أنا ذلك، فلما قدمنا على عمر بن الخطاب (ذكر له) (١) ذلك سعد، فقال له: ألم تر أن ابن عمر ينكر المسح على الخفين، فقال: فقلت: يا أمير المؤمنين، إن سعدا يقول: امسح عليهما بعد الحدث. قال: فقال عمر: ألا بعد الحدث، ألا بعد الخراءة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جنگ قادسیہ کے موقع پر موزوں پر مسح کے بارے میں میرا اور حضرت سعد کا اختلاف ہوگیا۔ وہ کہتے تھے کہ موزوں پر مسح کرو جبکہ میں انکار کرتا تھا۔ جب ہم حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت سعد نے ان سے اس معاملے کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما موزوں پر مسح کا انکار کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اے امیرالمؤمنین ! حضرت سعد کہتے ہیں کہ وضو ٹوٹنے کے بعد موزوں پر مسح کرو۔ حضرت عمر نے فرمایا وضو ٹوٹنے کے بعد مسح کرو، پاخانہ کرنے کے بعد بھی مسح کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1904
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٢٠٢) وأحمد (٨٨) وعبد الرزاق (٧٦٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1904، ترقيم محمد عوامة 1898)
حدیث نمبر: 1905
١٩٠٥ - حدثنا هشيم قال: أنا يونس عن الحكم بن الأعرج قال: سألت ابن عمر عن المسح على الخفين؟ فقال: اختلفت أنا وسعد في ذلك ونحن بجلولاء فقال سعد: امسح عليهما، فأنكرت ذلك، فلما قدمنا على عمر ذكرت له ذلك، قال: (فقلت) (١) يا أمير المؤمنين إنه يقول: امسح عليهما بعد الحدث، فقال عمر: ألا بعد الخراءة (ألا بعد الحدث) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے موزوں پر مسح کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ مقام جلولاء میں میرا اور حضرت سعد کا موزوں پر مسح کے بارے میں اختلاف ہوگیا تھا۔ حضرت سعد کہتے تھے کہ موزوں پر مسح کرو جبکہ میں انکار کرتا تھا۔ جب ہم حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا اور کہا کہ حضرت سعد کہتے ہیں کہ وضو ٹوٹنے کے بعد موزوں پر مسح کرو۔ حضرت عمر نے فرمایا استنجاء کرنے کے بعد بھی مسح کرو، وضو ٹوٹنے کے بعد بھی مسح کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1905
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وأخرجه عبد الرزاق (٧٦٣) وابن خزيمة (١٨٤) وانظر: [١٩٠٤].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1905، ترقيم محمد عوامة 1899)
حدیث نمبر: 1906
١٩٠٦ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا حصين عن إبراهيم عن ابن مسعود أنه كان يقول في المسح على الخفين: ثلاثة أيام ولياليهن للمسافر، ويوم وليلة للمقيم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود موزوں پر مسح کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ مسافر کے لیے تین دن تین رات اور مقیم کے لیے ایک دن ایک رات اس کی مدت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1906
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1906، ترقيم محمد عوامة 1900)
حدیث نمبر: 1907
١٩٠٧ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا غيلان بن عبد اللَّه مولى بني مخزوم قال: سمعت ابن عمر سأله رجل من الأنصار عن المسح على الخفين؟ فقال: ثلاثة أيام للمسافر، وللمقيم يوم وليلة (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک انصاری نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے موزوں پر مسح کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ مسافر کے لیے تین دن اور مقیم کے لیے ایک دن ایک رات اس کی مدت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1907
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1907، ترقيم محمد عوامة 1901)
حدیث نمبر: 1908
١٩٠٨ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم عن عمرو بن الحارث قال: (صحبت) (١) ابن مسعود في سفر، فلم ينزع خفيه ثلاثًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن حارث فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں حضرت ابن مسعود کے ساتھ تھا۔ انہوں نے تین دن تک موزے نہیں اتارے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1908
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح يحتمل التدليس؛ هشيم مدلس، وانظر: [١٩٠٩].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1908، ترقيم محمد عوامة 1902)
حدیث نمبر: 1909
١٩٠٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق عن عمرو بن الحارث قال: خرجت مع عبد اللَّه إلى المدائن، فمسح على الخفين ثلاثًا (لا ينزعهما) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن حارث فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن مسعود کے ساتھ مدائن کی طرف گیا۔ راستے میں وہ تین دن تک موزوں پر مسح کرتے رہے اور انہیں نہیں اتارا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1909
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1909، ترقيم محمد عوامة 1903)