کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: وضو کرتے وقت شرم گاہ کی جگہ پانی چھٹرکنے کا بیان
حدیث نمبر: 1789
١٧٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (عبيد اللَّه) (١) بن أبي (زياد) (٢) قال: رأيت مجاهدا يتوضأ، فنضح فرجه، وذكر أن النبي ﷺ فعله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن ابی زیاد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد کو دیکھا کہ وہ وضو کرتے وقت شرم گاہ کی جگہ پانی چھڑکا کرتے تھے اور فرماتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1789
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف مرسل؛ عبيد اللَّه ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1789، ترقيم محمد عوامة 1784)
حدیث نمبر: 1790
١٧٩٠ - حدثنا حماد بن مسعدة عن يزيد مولى سلمة: أن سلمة كان ينضح بين جلده، وثيابه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ اپنی کھال اور کپڑوں کے درمیان پانی چھڑکا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1790
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1790، ترقيم محمد عوامة 1785)
حدیث نمبر: 1791
١٧٩١ - حدثنا علي بن مسهر عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع قال كان ابن عمر إذا توضأ نضح فرجه، قال عبيد اللَّه وكان أبي يفعل ذلك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب وضو کرتے تو شرم گاہ کی جگہ پانی چھڑکتے اور فرماتے کہ میرے والد یونہی کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1791
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه عبد الرزاق (٥٨٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1791، ترقيم محمد عوامة 1786)
حدیث نمبر: 1792
١٧٩٢ - حدثنا ابن فضيل عن يزيد عن (مقسم) (١) عن ابن عباس قال: إن الشيطان يأتي أحدكم، وهو في الصلاة فيبل إحليله، حتى يريه أنه قد أحدث، فمن رأى به ذلك فلينتضح بالماء، فمن (رابه) (٢) من ذلك شيء، فليقل: هو عمل الماء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ شیطان تم میں سے کسی کی نماز میں آتا ہے اور اس کے آلۂ تناسل کے سوراخ کو گیلا کر کے یہ دکھاتا ہے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا۔ جسے ایسا شک ہو وہ پانی چھڑک لے اور جسے اس بارے میں زیادہ شک ہو تو وہ کہے کہ یہ پانی کی وجہ سے ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1792
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبي زياد، أخرجه عبد الرزاق (٥٨٣) وابن المنذر (١٥٥) ومسدد كما في المطالب (١١٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1792، ترقيم محمد عوامة 1787)
حدیث نمبر: 1793
١٧٩٣ - حدثنا وكيع عن ابن أبي ذئب عن مولى لابن أزهر قال: شكوت إلى ابن عمر البول؟ فقال: إذا توضأت، فانضح، واله عنه؛ فإنه من الشيطان (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابن ازہر کے ایک مولی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پیشاب کی شکایت کی تو انہوں نے فرمایا کہ جب تم وضو کرو تو پانی چھڑک لو اور اس سے بےپرواہ ہو جاؤ کیونکہ یہ شیطان کی طرف سے ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1793
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1793، ترقيم محمد عوامة 1788)
حدیث نمبر: 1794
١٧٩٤ - حدثنا أبو داود عن ابن أبي ذئب قال: أخبرني أخي قال: سألت القاسم عن البلة أجدها في الصلاة؟ فقال: يا ابن أخي انضحه، واله عنه، فإنما هو من الشيطان. قال: ففعلت فذهب عني.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ذئب فرماتے ہیں کہ مجھے میرے بھائی نے بتایا کہ میں نے حضرت قاسم سے نماز کے اندر محسوس کی جانے والی تری کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا اے میرے پیارے ! تم اس پر پانی چھڑک کر اس سے غافل ہو جاؤ کیونکہ یہ شیطان کی طرف سے ہے۔ وہ فرماتے ہیں جب سے میں نے ایسا کیا میرا وہم دور ہوگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1794
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1794، ترقيم محمد عوامة 1789)
حدیث نمبر: 1795
١٧٩٥ - حدثنا خالد بن حيان عن جعفر قال: جاء رجل إلى ميمون بن مهران، فشكا إليه بلة يجدها فقال له ميمون: إذا أنت توضأت فانضح (فرجك) (١) وما (يليه) (٢) من ثوبك بالماء، فإن وجدت من ذلك شيئا، فقل: هو من ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی میمون بن مہران کے پاس آیا اور ان سے تری کے بارے میں سوال کیا جو محسوس ہوتی ہے۔ حضرت میمون نے اس سے فرمایا کہ جب تم وضو کرو تو اپنی شرم گاہ پر پانی چھڑک لو اور اس سے متصل کپڑے کو بھی تر کرلو۔ اب اگر تمہیں تری محسوس ہو تو تم یہ سوچو کہ یہ اسی پانی کی وجہ سے ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1795
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1795، ترقيم محمد عوامة 1790)
حدیث نمبر: 1796
١٧٩٦ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن ابن عون عن محمد: أنه كان إذا توضأ، ففرغ قال (بكف من) (١) ماء في إزاره هكذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ محمد وضو سے فارغ ہونے کے بعد ایک ہتھیلی سے پانی اپنی ازار بند پر چھڑکا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1796
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1796، ترقيم محمد عوامة 1791)
حدیث نمبر: 1797
١٧٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا زكريا بن أبي زائدة قال: قال منصور: حدثني مجاهد عن الحكم بن سفيان الثقفي: أنه رأى النبي ﷺ توضأ ثم أخذ كفا من ماء، فنضح به فرجه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم بن سفیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کرنے کے بعد ایک ہتھیلی میں پانی لے کر اسے شرم گاہ کی جگہ چھڑک دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1797
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مضطرب، أخرجه أحمد (١٥٣٨٤) وعبد الرزاق (٥٨٦) وأبو داود (١٦٧) والحاكم ١/ ١٧١ ومن طريق المؤلف أخرجه ابن ماجه (٤٦١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1797، ترقيم محمد عوامة 1792)
حدیث نمبر: 1798
١٧٩٨ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا ابن لهيعة عن عقيل عن ابن شهاب عن عروة عن أسامة بن زيد بن حارثة عن: أبيه أن النبي ﷺ توضأ، ثم أخذ كفا من ماء، فنضح به فرجه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن حارثہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کرنے کے بعد ہتھیلی میں پانی لے کرا سے شرم گاہ کی جگہ چھڑک دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1798
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف، لحال ابن لهيعة، أخرجه ابن ماجه (٤٦٢) والدارقطني ١/ ١١١، والطبراني (٤٦٥٧)، والبيهقي ١/ ١٦٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1798، ترقيم محمد عوامة 1793)