حدیث نمبر: 1772
١٧٧٢ - حدثنا أبو بكر: قال حدثنا معتمر عن أبيه عن (أبي عثمان) (١) قال: اللمس باليد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ہاتھ سے چھونا ہے۔
حدیث نمبر: 1773
١٧٧٣ - حدثنا حفص عن الأعمش عن حبيب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: هو الجماع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس سے مراد جماع ہے۔
حدیث نمبر: 1774
١٧٧٤ - حدثنا حفص عن داود عن جعفر بن إياس عن سعيد بن جبير عن ابن عباس: (مثله) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 1775
١٧٧٥ - [حدثنا حفص عن أشعث عن الشعبي عن أصحاب عبد اللَّه عن عبد اللَّه قال: اللمس ما دون الجماع] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے ایسا چھونا مراد ہے جو جماع سے کم ہو۔
حدیث نمبر: 1776
١٧٧٦ - حدثنا حفص عن أشعث عن الشعبي عن أصحاب علي عن علي ﴿أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ﴾ قال: هو الجماع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد جماع ہے۔
حدیث نمبر: 1777
١٧٧٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: هو الجماع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس سے مراد جماع ہے۔
حدیث نمبر: 1778
١٧٧٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم عن عبد اللَّه قال (اللمس) (١) ما دون الجماع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے ایسا چھونا مراد ہے جو جماع سے کم ہو۔
حدیث نمبر: 1779
١٧٧٩ - حدثنا ابن علية عن سلمة بن علقمة عن ابن سيرين قال: سألت عبيدة عن قوله (تعالى) (١): ﴿أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ﴾؟: فقال بيده فظننت ما عنى، [فلم أسأله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدہ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے ہاتھ سے اشارہ کیا جسے میں سمجھ گیا اور میں نے سوال نہ کیا۔
حدیث نمبر: 1780
١٧٨٠ - حدثنا وكيع عن حسن بن صالح عن منصور عن هلال بن يساف عن أبي عبيدة قال: (اللمس) (١) ما دون الجماع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ایسا چھونا ہے جو جماع سے کم ہو۔
حدیث نمبر: 1781
١٧٨١ - حدثنا وكيع عن (ابن) (١) عون عن ابن سيرين قال سألت عبيدة عن قوله تعالى: ﴿أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ﴾؟] (٢) فقال بيده: هكذا، وقبض كفه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدہ سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور اپنی مٹھی کو بند کیا۔
حدیث نمبر: 1782
١٧٨٢ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن قال: الملامسة الجماع.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اس سے مراد جماع ہے۔
حدیث نمبر: 1783
١٧٨٣ - حدثنا علي بن مسهر عن إسماعيل عن الشعبي قال: الملامسة ما دون الجماع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ایسا چھونا ہے جو جماع سے کم ہو۔
حدیث نمبر: 1784
١٧٨٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عبد الملك بن ميسرة عن سعيد بن جبير قال: اختلفت أنا وأناس من العرب في اللمس، فقلت أنا وأناس من الموالي: ⦗٣٥٨⦘ اللمس ما دون الجماع، وقالت العرب: هو الجماع، فأتينا ابن عباس فقال: غلبت العرب، هو الجماع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میرا اور کچھ عربوں کا لمس کے بارے میں اختلاف ہوگیا۔ میں اور کچھ موالی کہتے تھے کہ اس سے مراد جماع سے کم کوئی عمل ہے جبکہ اہل عرب کہتے تھے کہ اس سے مراد جماع ہے۔ ہم فیصلے کے لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا کہ عرب غالب آگئے اس سے جماع مراد ہے۔
حدیث نمبر: 1785
١٧٨٥ - حدثنا ابن فضيل عن الأعمش عن إبراهيم عن أبي عبيدة عن عبد اللَّه قال: القبلة من اللمس، وفيها الوضوء، واللمس ما دون الجماع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ بوسہ لینا لمس کا حصہ ہے اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور لمس وہ چیز ہے جو جماع سے کم ہو۔
حدیث نمبر: 1786
١٧٨٦ - حدثنا هشيم عن أبي (بشر) (١) عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: اللمس والمس، والمباشرة إلى الجماع، ولكن اللَّه يكني ما شاء (لمن شاء) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ لفظ لمس، لفظ مسّ اور لفظ مباشرت سے جماع مراد لیا جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ جس چیز کو چاہیں جس چیز کے لیے کنایہ لے سکتے ہیں۔