کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک پانی سے استنجاء کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ پتھر کا استعمال کافی ہے
حدیث نمبر: 1650
١٦٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن همام عن حذيفة قال: سئل عن الاستنجاء بالماء؟ فقال: إذن لا تزال يدي في نتن! (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا استنجاء پانی سے کرنا چاہئے ؟ فرمایا کہ اس طرح تو میرے ہاتھ سے بدبو آتی رہے گی۔
حدیث نمبر: 1651
١٦٥١ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: كان الأسود وعبد الرحمن ابن يزيد يدخلان الخلاء، (فيستنجيان) (١) بأحجار، ولا يزيدان عليها، ولا يمسان ماء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسود اور عبد الرحمن بن یزید جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو پتھروں سے استنجاء کرتے تھے، وہ اس پر کوئی اضافہ نہیں کرتے تھے اور نہ ہی پانی کو ہاتھ لگاتے تھے۔
حدیث نمبر: 1652
١٦٥٢ - حدثنا هشيم قال: أنا يحيى (بن سعيد) (١) عن سعيد بن المسيب قال: (٢) ذكر له الاستنجاء بالماء فقال: [ذلك طهور النساء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب سے پانی سے استنجاء کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ یہ تو عورتوں کا طریقہ طہارت ہے۔
حدیث نمبر: 1653
١٦٥٣ - [حدثنا هشيم قال: أخبرنا مغيرة عن إبراهيم، أنه ذكر له الاستنجاء بالماء فقال: (أنتم) (١) أفعل لذلك منهم، كانوا يجتزؤون بالحجارة] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم کے سامنے پانی سے استنجاء کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم اس عمل کو کرنے والے ہو جبکہ اسلاف تو پتھر سے استنجاء کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1654
١٦٥٤ - حدثنا عبدة عن هشام بن عروة عن عمرو بن (خزيمة) (١) عن عمارة بن خزيمة عن خزيمة بن ثابت قال: قال رسول اللَّه ﷺ في الاستنجاء: (بثلاثة أحجار ليس (فيها) (٢) رجيع" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خزیمہ بن ثابت سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ استنجاء تین پتھروں سے ہونا چاہئے، ان پتھروں میں لید شامل نہ ہو۔
حدیث نمبر: 1655
١٦٥٥ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا أبو بشر عن طاوس قال: الاستنجاء بثلاثة أحجار قال: قلت: فإن لم أجد ثلاثة أحجار؟ قال: فثلاثة أعواد. قلت: فإن لم أجد ثلاثة أعواد؟ قال: فثلاث حفنات من تراب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بشر فرماتے ہیں کہ حضرت طاؤس نے فرمایا کہ استنجا تین پتھروں سے ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ اگر تین پتھر نہ ملیں تو کیا کیا جائے ؟ فرمایا تین لکڑیاں استعمال کرلو۔ میں نے کہا اگر تین لکڑیاں نہ ملیں تو کیا کیا جائے ؟ فرمایا مٹی کے تین ڈھیلے استعمال کرلو۔
حدیث نمبر: 1656
١٦٥٦ - حدثنا هشيم عن (إسماعيل بن سالم) (١) قال: حدثنا الحكم: قال: الاستنجاء بثلاثة أحجار، فإن لم (يجتزيء) (٢) بذلك؛ فبخمسة أحجار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ استنجا تین پتھروں سے ہونا چاہیے۔ اگر تین پتھر کافی نہ ہوں تو پھر پانچ پتھر کافی ہیں۔
حدیث نمبر: 1657
١٦٥٧ - حدثنا وكيع عن مسعر عن عبيد اللَّه بن (القبطية) (١) عن ابن الزبير: أنه رأى رجلًا يغسل عنه أثر الغائط فقال: ما كنا نفعله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن زبیر نے ایک آدمی کو دیکھا جو پاخانے کے اثرات کو پانی سے دھو رہا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ ہم تو ایسا نہیں کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1658
١٦٥٨ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن إبراهيم عن (عبد الرحمن) (١) بن يزيد عن سلمان قال له بعض المشركين -وهم يستهزؤون-: (أرى صاحبكم وهو يعلمكم حتى الخراءة) (٢)، فقال: سلمان: أجل، أمرنا أن لا نستقبل القبلة، ولا ⦗٣٣١⦘ نستنجي بدون ثلاثة أحجار (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ بعض مشرکین نے حضرت سلمان سے مذاق کرتے ہوئے پوچھا کہ میں تمہارے صاحب ( (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کو دیکھتا ہوں کہ وہ تمہیں ہر چیز حتی کہ استنجا کا طریقہ بھی سکھاتے ہیں ؟ ! حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ کیوں نہیں، انہوں نے ہمیں اس بات کا حکم دیا کہ ہم دورانِ رفعِ حاجت قبلہ کی طرف رخ نہ کریں اور تین پتھروں سے کم میں استنجا نہ کریں۔
حدیث نمبر: 1659
١٦٥٩ - حدثنا وكيع عن (إسرائيل) (١) عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة عن عبد اللَّه قال: خرج رسول اللَّه ﷺ لحاجة فقال: "التمس لي ثلاثة أحجار"، فأتيته بحجرين وروثة، فأخذ الحجرين، وطرح الروثة، وقال: "إنها (ركس) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رفع حاجت کے لیے تشریف لے گئے اور مجھ سے فرمایا کہ میرے لیے تین پتھر لاؤ۔ میں دو پتھر اور ایک لید لے آیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں پتھر لے لیے اور لید پھینک دی اور فرمایا کہ یہ ناپاک ہے۔
حدیث نمبر: 1660
١٦٦٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا استجمر أحدكم، فليستجمر ثلاثًا" يعني يستنجي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی استنجا کرے تو تین مرتبہ استنجا کرے۔
حدیث نمبر: 1661
١٦٦١ - حدثنا حماد بن مسعدة عن يزيد مولى سلمة: أن سلمة كان لا يستنجي بالماء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ پانی سے استنجا نہیں کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1662
١٦٦٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم (قال: كان) (١) علقمة والأسود أو عبد الرحمن بن (يزيد) (٢) لا يزيدان على ثلاثة أحجار.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ اور حضرت اسود یا حضرت عبدالرحمن بن یزید تین پتھروں سے زیادہ سے استنجا نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1663
١٦٦٣ - حدثنا أبو بكر عن (حاتم) (١) بن إسماعيل عن جعفر عن نافع قال: كان ابن عمر لا يستنجي بالماء، كنت أتيته بحجارة من الحرة فإذا امتلأت، خرجت بها، وطرحتها، ثم أدخلت مكانها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما پانی سے استنجا نہیں کرتے تھے۔ میں ان کے پاس مقام حرہ سے ایک پتھر لے کر آتا تھا، جب وہ پتھر آلودہ ہوتا تو میں اسے پھینک دیتا۔
حدیث نمبر: 1664
١٦٦٤ - حدثنا الفضل بن دكين عن سفيان عن منصور عن إبراهيم أن الأسود، وعلقمة كانا يستنجيان بثلاثة أحجار.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت اسود اور حضرت علقمہ تین پتھروں سے استنجا کیا کرتے تھے۔