کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جن حضرات کے نزدیک رفع حاجت کے دوران قبلہ کی طرف رخ کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 1625
١٦٢٥ - (حدثنا) (١) أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن عمه واسع بن حبان عن ابن عمر قال: رأيت النبي ﷺ جالسًا يقضي حاجته متوجهًا نحو القبلة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبلے کی طرف رخ کر کے رفع حاجت کرتے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1625
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، لكن انقلب على الراوي فقال: (متوجهًا نحو القبلة)، وأخرجه البخاري (١٤٨)، ومسلم (٢٦٦) بلفظ: (مستقبلًا بيت المقدس).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1625، ترقيم محمد عوامة 1621)
حدیث نمبر: 1626
١٦٢٦ - حدثنا الثقفي عن خالد عن رجل عن عراك بن مالك عن عائشة: أن رسول اللَّه ﷺ أمر بخلائه، فحول قبل القبلة؛ لما بلغه أن الناس كرهوا ذلك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ لوگوں نے رفع حاجت کے دوران قبلہ رخ ہونے کو ناجائز سمجھ لیا ہے، تو آپ نے اس بات کا حکم دیا کہ آپ کے بیت الخلاء کا رخ قبلے کی طرف کردیا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1626
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1626، ترقيم محمد عوامة 1622)
حدیث نمبر: 1627
١٦٢٧ - حدثنا وكيع عن حماد بن سلمة عن (خالد الحذاء عن) (١) (خالد بن أبي الصلت) (٢) عن عراك بن مالك عن عائشة قالت: ذكر عند رسول اللَّه ﷺ أن قومًا يكرهون أن يستقبلوا بفروجهم القبلة (قالت) (٣): قال رسول اللَّه ﷺ: "استقبلوا (بمقعدتي) (٤) إلى القبلة" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کیا گیا کہ کچھ لوگ قبلہ کی طرف رخ کر کے رفع حاجت کو ناجائز سمجھتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے بیت الخلاء کا رخ قبلے کی طرف کردو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1627
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1627، ترقيم محمد عوامة 1623)