کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: پیشاب اور پاخانہ کرتے ہوئے قبلہ رخ ہونے کا حکم
❮
❯
١٦١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن عبد الرحمن بن يزيد قال: قالوا (لسلمان) (١): قد علمكم نبيكم كل شيء حتى ⦗٣٢٠⦘ الخراءة، قال: أجل، قد نهانا أن نستقبل القبلة بغائط أو بول (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے حضرت سلمان سے کہا کہ کیا تمہارے نبی نے تمہیں ہر چیز حتیٰ کہ پاخانہ کا طریقہ بھی سکھا دیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں، انہوں نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم پیشاب یا پاخانہ کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ کریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1614
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٢٦٢) وأحمد (٢٣٧٠٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1614، ترقيم محمد عوامة 1610)
١٦١٥ - حدثنا شبابة عن (ابن) (١) أبي (ذئب) (٢) عن الزهري عن (عطاء) (٣) ابن يزيد عن (أبي أيوب) (٤) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا ذهب أحدكم للغائط؛ فلا يستقبل القبلة، ولا يولها ظهره؛ شرقوا، أو غربوا" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ایوب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی بیت الخلاء میں جائے تو نہ تو قبلے کی طرف منہ کرے اور نہ ہی پشت، بلکہ مشرق کی طرف یا مغرب کی طرف رخ کر کے بیٹھو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1615
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٤٤) ومسلم (٢٦٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1615، ترقيم محمد عوامة 1611)
١٦١٦ - حدثنا زيد بن الحباب عن مالك بن أنس عن إسحاق بن عبد اللَّه بن أبي طلحة عن رافع بن إسحاق بن طلحة قال: سمعت أبا أيوب (يقول) (١): ما (أدري ما) (٢) أصنع بهذه (الكراييس) (٣) وقد قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا ذهب (أحدكم) (٤) (للغائط) (٥)، أو البول؛ فلا تستقبلوا القبلة، أو قال الكعبة بفرج" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ایوب انصاری فرماتے ہیں کہ میں ان چھت بنے بیت الخلاؤں کا کیا کروں ؟ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی پیشاب یا پاخانہ کے لئے جائے تو قبلہ کی طرف رخ نہ کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1616
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١١٤) ومسلم (٢٦٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1616، ترقيم محمد عوامة 1612)
١٦١٧ - حدثنا خالد بن مخلد عن سليمان بن بلال قال: حدثني عمرو بن يحيى المازني عن أبي زيد عن (معقل) (١) الأسدي -قد صحب النبي ﷺ قال: نهى ⦗٣٢١⦘ رسول اللَّه ﷺ أن (نستقبل) (٢) (القبلتين) (٣) بغائط، أو بول (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معقل اسدی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ پیشاب یا پاخانہ کرتے وقت قبلتین (مسجد حرام اور بیت المقدس ) کی طرف رخ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1617
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1617، ترقيم محمد عوامة 1613)
١٦١٨ - حدثنا جرير عن منصور عن مجاهد قال: (كان) (١) يكره أن يستقبل (القبلتين) (٢) ببول.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ پیشاب کرتے وقت قبلتین کی طرف رخ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1618
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1618، ترقيم محمد عوامة 1614)
١٦١٩ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: كانوا يكرهون أن يستقبلوا القبلة بغائط، أو بول، أو يستدبروها، ولكن عن يمينها، أو (يسارها) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ پیشاب یا پاخانہ کرتے وقت قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ کی جائے، بلکہ قبلہ آدمی کے دائیں یا بائیں طرف ہونا چاہئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1619
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1619، ترقيم محمد عوامة 1615)
١٦٢٠ - حدثنا هشيم عن ابن عون عن ابن سيرين قال: كانوا يكرهون أن يستقبلوا واحدة من القبلتين (بغائط) (١)، أو بول.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اسلاف اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ پیشاب یا پاخانہ کرتے وقت دونوں قبلوں میں سے کسی ایک کی طرف بھی رخ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1620
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1620، ترقيم محمد عوامة 1616)
١٦٢١ - حدثنا ابن عيينة عن سلمة بن وهرام عن طاوس قال: (حق للَّه) (١) على كل مسلم أن يكرم قبلة اللَّه، فلا يستقبل منها شيئًا، يقول: في غائط أو بول.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ ہر مسلمان پر اللہ کا حق ہے کہ وہ اللہ کے قبلے کا احترام کرے اور پیشاب یا پاخانہ کرتے وقت اس کی طرف رخ نہ کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1621
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1621، ترقيم محمد عوامة 1617)
١٦٢٢ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن خالد عن رجل عن عمر بن عبد العزيز قال: ما استقبلت القبلة بخلائي منذ كذا، وكذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز فرماتے ہیں کہ میں نے ایک طویل عرصے سے رفع حاجت کے دوران قبلے کی طرف رخ نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1622
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1622، ترقيم محمد عوامة 1618)
١٦٢٣ - حدثنا شبابة قال: حدثنا ليث بن (سعد) (١) عن يزيد بن أبي حبيب: أنه سمع عبد اللَّه بن الحارث الزبيدي يقول: أنا أول من سمع رسول اللَّه ﷺ وهو يقول: ⦗٣٢٢⦘ "لا يبولن أحدكم مستقبل القبلة"، وأنا أول من حدث الناس به (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن الحارث زبیدی فرماتے ہیں کہ میں پہلا شخص ہوں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ” تم میں سے کوئی شخص قبلے کی طرف رخ کر کے پیشاب نہ کرے “ اور میں نے ہی سب سے پہلے لوگوں سے یہ حدیث بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1623
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (١٧٧٠٠) وابن ماجة (٣١٧) والطحاوي ٤/ ٢٣٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1623، ترقيم محمد عوامة 1619)
١٦٢٤ - حدثنا عفان قال: حدثنا وهيب قال: حدثنا عمرو بن يحيى عن (أبي زيد) (١) عن (معقل بن أبي معقل) (٢) عن النبي ﷺ: أنه نهى أن نستقبل القبلتين بغائط، أو بول (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معقل بن ابی معقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشاب یا پاخانہ کرتے وقت دونوں قبلوں کی طرف رخ کرنے سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1624
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1624، ترقيم محمد عوامة 1620)