کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: آٹے اور ستو سے ہاتھ صاف کرنے کا حکم
حدیث نمبر: 1579
١٥٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن مسعر عن حماد عن إبراهيم: أنه كان لا يرى بأسًا أن يغسل الرجل يده بشيء من الدقيق، والسويق.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم کے نزدیک اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی آٹے یا ستو سے اپنے ہاتھ صاف کرلے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1579
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1579، ترقيم محمد عوامة 1575)
حدیث نمبر: 1580
١٥٨٠ - حدثنا أبو أسامة عن زائدة (عن مغيرة) (١) عن أبي معشر قال: أكلت مع إبراهيم سمكا، فدعا لي بسويق، فغسلت يديَّ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو معشر کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم کے ساتھ مچھلی کھائی پھر انہوں نے میرے لئے ستو منگوائے اور میں نے اس سے اپنے ہاتھ صاف کئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1580
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1580، ترقيم محمد عوامة 1576)
حدیث نمبر: 1581
١٥٨١ - حدثنا معتمر بن سليمان عن حماد: أنه لم ير به بأسا وقال: يكره منه فساده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اس میں حرج تو کچھ نہیں لیکن اس چیز کا خراب کرنا اچھا نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1581
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1581، ترقيم محمد عوامة 1577)
حدیث نمبر: 1582
١٥٨٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن حبيب عن عمرو بن هرم قال: سئل جابر ابن زيد عن الرجل يغسل يده بالدقيق، والخبز من الغمر؟ (١) (فقال) (٢): لا بأس بذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید سے سوال کیا گیا کہ کیا آدمی ہاتھ پر لگی ہوئی چکنائی کو آٹے یا روٹی سے صاف کرسکتا ہے۔ فرمایا اس میں کچھ حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1582
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1582، ترقيم محمد عوامة 1578)