کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جن حضرات کے نزدیک خون کے نکلنے میں رخصت ہے
حدیث نمبر: 1478
١٤٧٨ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا هشيم عن يحيى بن سعيد عن سعيد ابن المسيب: أنه أدخل أصابعه في أنفه، فخرج دم، فمسحه، فصلى ولم يتوضأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سعید بن مسیب نے اپنے ناک میں انگلی داخل کی تو کچھ خون نکل آیا۔ حضرت سعید نے اسے صاف کردیا اور بغیر وضو کیے نماز پڑھ لی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1478
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1478، ترقيم محمد عوامة 1474)
حدیث نمبر: 1479
١٤٧٩ - حدثنا شريك عن عمران بن مسلم عن مجاهد عن أبي هريرة: أنه لم يكن يرى (بالقطرة) (١) والقطرتين من الدم في الصلاة بأسًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ خون کے ایک یا دو قطرے نکلنے کی صورت میں وضو ٹوٹنے کے قائل نہ تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1479
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شريك صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1479، ترقيم محمد عوامة 1475)
حدیث نمبر: 1480
١٤٨٠ - حدثنا ابن علية عن (خالد) (١) عن أبي قِلابة: [أنه كان لا يرى بأسًا بالشقاق يخرج منه الدم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ اس پھٹن سے وضو ٹوٹنے کے قائل نہ تھے جس سے خون بھی نکل آئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1480
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1480، ترقيم محمد عوامة 1476)
حدیث نمبر: 1481
١٤٨١ - (حدثنا عبد الأعلى عن برد عن مكحول) (١) أنه كان لا يرى بأسًا بالدم إذا خرج من أنف الرجل إن استطاع أن يفتله باصبعه، إلا أن يسيل، أو يقطر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت برد فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول کے نزدیک اگر آدمی کی ناک سے اتنا کم خون نکلے کہ انگلی سے صاف ہوجائے تو وضو نہیں ٹوٹتا۔ لیکن اگر بہہ جائے یا ٹپک جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1481
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1481، ترقيم محمد عوامة 1477)
حدیث نمبر: 1482
١٤٨٢ - حدثنا عبد الوهاب عن التيمي عن (بكر) (١) قال: رأيت ابن عمر عصر (٢) بثرة في وجهه، فخرج شيء من دم، فحكه بين أصبعيه، ثم صلى، ولم يتوضأ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ ان کے چہرے پر موجود ایک دانے سے خون نکلا انہوں نے اسے انگلیوں سے صاف کردیا اور بغیر وضو کئے نماز پڑھ لی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1482
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه عبد الرزاق (٥٥٣) والبيهقي ١/ ١٤١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1482، ترقيم محمد عوامة 1478)
حدیث نمبر: 1483
١٤٨٣ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن حنظلة عن طاوس: أنه كان لا يرى في الدم السائل وضوءا؛ يغسل عنه الدم، ثم (حَسبه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس بہنے والے خون میں بھی وضو کے قائل نہ تھے۔ ان کے نزدیک بس خون کو دھو دینا کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1483
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1483، ترقيم محمد عوامة 1479)
حدیث نمبر: 1484
١٤٨٤ - حدثنا ابن فضيل عن (العلاء) (١) قال: سألت سعيد بن جبير فقلت: ⦗٢٩٤⦘ إني أتوضأ، (فآخذ) (٢) الدلو، (فأستسقي) (٣) به، فيخدشني الحبل، أو يصيبني الخدش، فيخرج منه الدم؟ قال: اغسله، ولا (تتوضأ) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علاء کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے سوال کیا کہ اگر میں وضو کرنے کے بعد ڈول پکڑ کر پانی پیوں، اگر رسی کی وجہ سے میرا ہاتھ کٹ جائے اور خون نکل آئے تو میں کیا کروں ؟ فرمایا اس خون کو دھو لو دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1484
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1484، ترقيم محمد عوامة 1480)
حدیث نمبر: 1485
١٤٨٥ - حدثنا شَبَابة قال: حدثنا شعبة عن غيلان بن جامع عن ميمون بن مهران قال: أنبأنا من رأى أبا هريرة يُدخل أصابعه في أنفه، فيخرج (عليها) (١) الدم، فيحته، ثم يقوم فيصلي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون بن مہران فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ ناک میں انگلی داخل کرتے اگر خون نکلتا تو اسے صاف کر کے نماز پڑھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1485
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1485، ترقيم محمد عوامة 1481)
حدیث نمبر: 1486
١٤٨٦ - (حدثنا وكيع قال: حدثنا عبيد اللَّه) (١) بن حبيب بن أبي (ثابت) (٢) عن (أبي) (٣) (الزبير) (٤) عن جابر: أنه أدخل أصبعه في أنفه، فخرج عليها دم، فمسحه بالأرض، أو بالتراب، ثم صلى (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الزبیر فرماتے ہیں کہ حضرت جابر اپنی انگلی ناک میں داخل کرتے اگر خون نکلتا تو اسے زمین یا مٹی سے صاف کر کے نماز پڑھ لیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1486
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1486، ترقيم محمد عوامة 1482)
حدیث نمبر: 1487
١٤٨٧ - حدثنا حَرَمُّي بن عِمارة عن أبي (خَلدة) (١) قال: رأيت (أبا) (٢) (سوار) (٣) العدَوي عصر بثرة، ثم صلى، ولم يتوضأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو خلدہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سوار کو دیکھا کہ انہوں نے ایک پھوڑا دبایا پھر بغیر وضو کیے نماز پڑھ لی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1487
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1487، ترقيم محمد عوامة 1483)