کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک حالت سجود میں اور بیٹھ کر سونے سے وضو نہیں ٹو ٹتا
حدیث نمبر: 1408
١٤٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام بن حرب عن يزيد الدالاني عن قتادة عن أبي العالية عن ابن عباس أن النبي ﷺ (قال) (١): "ليس على من نام ساجدًا وضوء، حتى يضطجع، فإذا اضطجع استرخت مفاصله" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حالت سجود میں سونے پر وضو لازم نہیں یہاں تک کہ پہلو کے بل لیٹ جائے، جب پہلو کے بل لیٹے گا تو اس کے اعضاء ڈھیلے ہوجائیں گے۔
حدیث نمبر: 1409
١٤٠٩ - حدثنا وكيع عن هشام عن قتادة عن أنس قال: كان أصحاب رسول اللَّه ﷺ يخفقون برؤسهم، ينتظرون (١) العشاء، ثم يقومون، فيصلون ولا يتوضؤون (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام سروں کو جھکا کر سو جاتے اور عشاء کی نماز کا انتظار کرتے پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1410
١٤١٠ - حدثنا وكيع عن مغيرة بن زياد عن عطاء عن ابن عباس قال: من نام وهو جالس، فلا وضوء عليه، (وإن) (١) اضطجع، فعليه الوضوء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو شخص بیٹھ کر سوئے اس پر وضو لازم نہیں اور جو پہلو کے بل سوئے اس کا وضو ٹوٹ گیا۔
حدیث نمبر: 1411
١٤١١ - حدثنا شريك عن منصور عن إبراهيم قال: كان النبي ﷺ ينام في ركوعه وسجوده، ثم يصلي، ولا يتوضأ (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حالت رکوع اور حالت سجود میں سو جاتے پھر نماز پڑھتے لیکن وضو نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1412
١٤١٢ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم: أن النبي ﷺ نام في المسجد، حتى نفخ، ثم قام فصلى، ولم يتوضأ، (وقال) (١): النبي ﷺ تنام عيناه ولا ينام قلبه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں ایسا سوئے کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی۔ پھر آپ اٹھے اور نماز پڑھی لیکن وضو نہ کیا۔ پھر فرمایا کہ میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔
حدیث نمبر: 1413
١٤١٣ - حدثنا حفص عن يحيى بن سعيد عن نافع عن ابن عمر أنه كان لا يرى على من نام قاعدًا وضوءًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو شخص بیٹھ کر سوئے اس کا وضو نہیں ٹوٹتا۔
حدیث نمبر: 1414
١٤١٤ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن شرحبيل بن مسلم، ومحمد بن زياد الألهاني قالا: كان أبو أمامة ينام وهو جالس حتى يمتليء نوما، ثم يقوم، فيصلي، ولا يتوضأ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شرحبیل بن مسلم اور حضرت محمد بن زیاد فرماتے ہیں حضرت ابو امامہ بیٹھ کر خوب اچھی طرح سو جاتے تھے پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے لیکن وضو نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1415
١٤١٥ - حدثنا زيد بن الحباب قال: أخبرني مالك بن أنس قال: أخبرني زيد بن أسلم: أن عمر بن الخطاب قال: من وضع جنبه، فليتوضأ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنا پہلو لگا لے وہ وضو کرے۔
حدیث نمبر: 1416
١٤١٦ - حدثنا وكيع عن ابن عون وابن إدريس عن هشام (عن) (١) ابن سيرين قال: سألت عبيدة عنه فقال: هو أعلم بنفسه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدہ سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ خود کو زیادہ بہتر جانتا ہے۔
حدیث نمبر: 1417
١٤١٧ - حدثنا هشيم قال: حدثنا عبد الملك عن عطاء أنه قال: من نام ساجدًا، أو قائمًا، أو جالسًا، فلا وضوء عليه، فإن نام مضطجعا؛ فعليه الوضوء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جو شخص حالت سجود میں یا کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر سویا اس کا وضو نہیں ٹوٹا اور جو شخص پہلو کے بل سو گیا اس کا وضو ٹوٹ گیا۔
حدیث نمبر: 1418
١٤١٨ - حدثنا هشيم قال: أنا مغيرة عن إبراهيم: مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے بھی یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 1419
١٤١٩ - [حدثنا ابن علية عن أيوب عن عكرمة: أنه كان لا يرى بأسًا بالنوم في القعود، ويكرهه في الاضطجاع] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ بیٹھ کر سونے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے، بلکہ پہلو کے بل سونے میں حرج سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1420
١٤٢٠ - حدثنا ابن إدريس عن هشام قال: رأيت ابن سيرين يخفق (برأسه) (١)، ثم يقوم، فيصلي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین کو دیکھا کہ وہ اپنا سر جھکا کر سوئے پھر اٹھ کر نماز پڑھ لی۔
حدیث نمبر: 1421
١٤٢١ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة قالت: كان النبي ﷺ ينام، حتى ينفخ، ثم يقوم، فيصلي، ولا يتوضأ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو جاتے یہاں تک کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی پھر اٹھ کر بغیر وضو کے نماز ادا فرما لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 1422
١٤٢٢ - حدثنا وكيع عن شعبة قال: (ذاكرت) (١) الحكم وحمادًا فقالا: ليس عليه (وضوء) (٢)، حتى يضع جنبه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم اور حضرت حماد فرماتے ہیں کہ جب تک پہلو زمین پر نہ لگے وضو نہیں ٹوٹتا۔
حدیث نمبر: 1423
١٤٢٣ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي حمزة عن إبراهيم قال: إذا نام الرجل قائمًا، أو قاعدًا، لم يجب عليه الوضوء، فإذا وضع جنبه؛ وجب عليه الوضوء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر سونے سے وضو نہیں ٹوٹتا وضو تو پہلو کے بل لیٹنے سے ٹوٹتا ہے۔
حدیث نمبر: 1424
١٤٢٤ - حدثنا ابن إدريس عن (يزيد) (١) (عن مقسم) (٢) عن ابن عباس قال: وجب الوضوء على كل نائم، إلا من خفق برأسه خفقة، أو خفقتين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہر سونے والے کا وضو ٹوٹ گیا البتہ سر کو ایک مرتبہ یا دو مرتبہ جھکا کر سونے والے کا وضو نہیں ٹوٹا۔
حدیث نمبر: 1425
١٤٢٥ - حدثنا عباد بن العوام عن (سعيد) (١) بن يزيد عن أبي (نضرة) (٢) عن ابن عباس قال: زرت خالتي ميمونة، فوافقت ليلة النبي ﷺ، فقام من الليل، يصلي، ثم نام، فلقد سمعت صفيره، قال: ثم جاء بلال يؤذنه بالصلاة، فخرج إلي الصلاة، ولم يتوضأ، ولم يمس ماء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ حضرت میمونہ ام المؤمنین کے پاس گیا۔ اس رات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی وہیں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو نماز کے لیے اٹھے، پھر ایسا سوئے کہ مجھے سیٹی کی آواز بھی سنائی دی۔ پھر حضرت بلال نماز کی اطلاع دینے آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے گئے حالانکہ آپ نے نہ وضو کیا اور نہ پانی کو ہاتھ لگایا۔
حدیث نمبر: 1426
١٤٢٦ - حدثنا إسحاق بن منصور (عن منصور) (١) (بن) (٢) (أبي) (٣) الأسود عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد اللَّه قال: كان النبي ﷺ ينام، وهو ساجد، فما يعرف نومه إلا بنفخه، ثم يقوم فيمضي في صلاته (٤).
مولانا محمد اویس سرور
عبد اللہ فرماتے ہیں کہ بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حالت سجود میں ایسا سو جاتے کہ ہمیں سانس کی آواز سنائی دینے لگتی جس سے ہمیں آپ کی نیند کا علم ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہو کر نماز جاری رکھتے۔
حدیث نمبر: 1427
١٤٢٧ - حدثنا يحيى بن سعيد عن طارق -بياع النوى- قال: حدثتني منيعة ابنة وقاص عن أبيها أن أبا موسى كان ينام بينهن حتى يغط فننبهه فيقول: هل سمعتموني أحدثت؟ فنقول: لا، (فيقوم) (١)، فيصلي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ لوگوں کے درمیان اس طرح سو جاتے کہ خراٹوں کی آواز آنے لگتی۔ جب انہیں بیدار کیا جاتا تو فرماتے کیا تم نے میرے وضو ٹوٹنے کی آواز سنی ؟ لوگ کہتے نہیں تو وہ اٹھ کر نماز شروع کردیتے۔