حدیث نمبر: 1389
١٣٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يحيى بن سعيد عن عبد اللَّه بن المغيرة عن بعض بني مدلج: أنه سأل رسول اللَّه ﷺ قال: يا رسول اللَّه إنا نركب (الأرماث) (١) في البحر للصيد، فنحمل معنا الماء (للشفة) (٢)، فإذا حضرت الصلاة، فإن توضأ أحدنا بمائه عطش، وإن توضأ بماء البحر وجد في نفسه؟ فزعم أن رسول اللَّه ﷺ قال: "هو الطهور ماؤه (الحل) (٣) ميتته" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
بنو مدلج کے ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم اپنی کشتیوں پر سوار ہو کر سمندر میں شکار تلاش کرتے ہیں۔ ہم پینے کے لیے اپنے ساتھ تھوڑا پانی بھی لے لیتے ہیں۔ اگر ہم میں سے کوئی نماز کے لیے اپنے پانی سے وضو کرلے تو وہ پیاسا رہ جائے گا۔ اور اگر سمندر کے پانی سے وضو کرے تو دل میں کھٹکا لگا رہتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔
حدیث نمبر: 1390
١٣٩٠ - حدثنا عبد الرحيم عن عبيد اللَّه بن عمر عن عمرو بن دينار عن أبي الطفيل قال: سئل أبو بكر الصديق أيتوضأ من ماء البحر؟ فقال: هو الطهور ماؤه الحلال ميتته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو طفیل کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق سے سوال کیا گیا کہ کیا سمندر کے پانی سے وضو کیا جاسکتا ہے ؟ فرمایا اس کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔
حدیث نمبر: 1391
١٣٩١ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي يزيد المدني قال: (حدثني) (١) أحد الصيادين قال: لما قدم عمر أمير المؤمنين (الجار) (٢) يتعاهد طعام الرزق، قال: ⦗٢٧٧⦘ قلت: يا أمير المؤمنين إنا نركب أرماثنا هذه، فنحمل معنا الماء (للشفة) (٣) فيزعم أناس أن ماء البحر لا يطهر! فقال: وأي ماء أطهر منه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ایک ماہی گیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت عمر مقام جار پر تشریف لائے تو میں نے عرض کیا اے امیر المؤمنین ! ہم اپنی کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں اور اپنے ساتھ پینے کے لیے تھوڑا سا پانی بھی لے لیتے ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ سمندر کا پانی پاک نہیں کرتا۔ حضرت عمر نے فرمایا اس سے زیادہ پاک پانی کون سا ہوسکتا ہے ؟
حدیث نمبر: 1392
١٣٩٢ - حدثنا ابن علية عن خالد عن عكرمة أن عمر سئل عن ماء البحر، فقال: وأي ماء أنظف منه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر سے سمندر کے پانی کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ اس سے زیادہ پاک پانی کون سا ہوسکتا ہے ؟
حدیث نمبر: 1393
١٣٩٣ - حدثنا عبدة (عن) (١) ابن أبي عروبة عن قتادة عن سنان بن سلمة أنه سأل ابن عباس عن ماء البحر فقال: بحران لا يضرك من أيهما توضأت، ماء البحر، وماء الفرات (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سمندر کے پانی کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ دو پانی ایسے ہیں جن سے وضو کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ سمندر کا پانی فرات کا پانی۔
حدیث نمبر: 1394
١٣٩٤ - حدثنا عبد الرحيم عن (ليث) (١) (عن عطاء) (٢) عن ابن عباس قال: صيد البحر حلال، وماؤه طهور (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سمندر کا شکار حلال اور اس کا پانی پاک کرنے والا ہے۔
حدیث نمبر: 1395
١٣٩٥ - حدثنا أزهر عن ابن عون عن ابن سيرين قال: لا بأس بالوضوء من ماء البحر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ سمندر کے پانی سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 1396
١٣٩٦ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن قال: لا بأس به، هو طهور.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ سمندر کے پانی سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ پاک کرنے والا ہے۔
حدیث نمبر: 1397
١٣٩٧ - حدثنا غندر عن عثمان بن (غياث) (١) عن عكرمة: أنه سئل عن ماء البحر يتوضا منه؟ فقال: أليس نأكل حيتانه؟.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے سوال کیا گیا کہ کیا سمندر کے پانی سے وضو کیا جاسکتا ہے ؟ تو فرمایا کیا ہم اس کی مچھلیاں نہیں کھاتے ؟
حدیث نمبر: 1398
١٣٩٨ - حدثنا ابن مهدي عن زمعة عن ابن طاوس (عن أبيه) (١) قال: ماء البحر (أذهب) (٢) للوسخ من غيره، وكان يراه طهورًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ سمندر کا پانی دوسرے پانی کے مقابلے میں میل کو زیادہ صاف کرنے والا ہے۔ حضرت طاؤس اسے پاک سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1399
١٣٩٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الزبير بن عدي عن إبراهيم قال: ماء البحر يجزئ، والعذب أحب إليّ منه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ سمندر کا پانی بھی جائز ہے لیکن میٹھا پانی زیادہ بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 1400
١٤٠٠ - حدثنا وكيع عن طلحة عن عطاء قال: ماء البحر طهور.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے۔
حدیث نمبر: 1401
١٤٠١ - حدثنا وكيع عن شعبة عن قتادة [عن سعيد بن المسيب قال: إذا ألجئت إليه فلا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ مجبوری میں سمندر کا پانی استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 1402
١٤٠٢ - حدثنا وكيع (١) عن هشام بن سعد عن زيد بن] (٢) أسلم عن عمرو بن سعد الجاري قال: جاء عمر الجار، فدعا بمناديل، فقال: اغتسلوا من ماء البحر، فإنه مبارك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر مقام جار میں تشریف لائے اور رومال منگوائے اور فرمایا کہ سمندر کے پانی سے غسل کرو یہ بابرکت ہے۔
حدیث نمبر: 1403
١٤٠٣ - حدثنا حماد بن خالد عن مالك بن أنس عن صفوان بن سليم عن سعيد (بن سلمة) (١) عن المغيرة بن أبي بردة سمع أبا هريرة يقول: قال رسول اللَّه ⦗٢٧٩⦘ ﷺ: " (البحر) (٢) الطهور ماؤه، الحلال ميتته" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔