حدیث نمبر: 1311
١٣١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم قال: حدثنا منصور عن الحسن قال: حدثني من رأى النبي ﷺ، بال قاعدا، (فتفاج) (١) حتى (ظننا) (٢) أن وركه سينفك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ ہم کو ان صاحب نے بیان کیا (جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیٹھ کر پیشاب کرتے دیکھا) کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں ٹانگوں کو اتنا زیادہ کھولتے کہ ہمیں خطرہ ہوتا کہ کہیں جسم مبارک زخمی نہ ہوجائے۔
حدیث نمبر: 1312
١٣١٢ - حدثنا هشيم قال أخبرني أبو حرة عن الحسن قال: كان النبي ﷺ إذا بال تفاج، حتى (يرثى) (١) له (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیشاب کے لیے ٹانگوں کو اتنا زیادہ کھولتے کہ ہمیں خطرہ ہوتا کہ کہیں جسم مبارک زخمی نہ ہوجائے۔
حدیث نمبر: 1313
١٣١٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد بن وهب عن عبد الرحمن بن حسنة قال: خرج علينا النبي ﷺ وفي يده كهيئة الدرقة قال: فوضعها، ثم جلس، فبال إليها. فقال بعضهم: انظروا إليه، يبول كما تبول المرأة! فسمعه النبي ﷺ فقال: "ويحك (أما) (١) علمت ما أصاب صاحب بني اسرائيل؟ كانوا إذا أصابهم البول، قرضوه بالمقاريض، فنهاهم، فعذب في قبره" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن حسنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے تو آپ کے ہاتھ میں چمڑے کی ڈھال جیسی کوئی چیز تھی۔ آپ نے اس کی طرف پیشاب کیا۔ ایک آدمی کہنے لگا ان کو دیکھو ! یہ تو عورتوں کی طرح پیشاب کرتے ہیں ! آپ نے اس کی یہ بات سنی تو فرمایا ” تیرا ناس ہو کیا تو نے بنی اسرائیل کے اس آدمی کے بارے میں نہیں سنا کہ جب لوگ پیشاب لگنے کی وجہ سے کپڑے کا وہ حصہ قینچی سے کاٹ دیتے تھے تو اس نے انہیں اس سے منع کیا جس کے بدلے میں اللہ نے اسے عذاب قبر میں مبتلا کردیا تھا۔
حدیث نمبر: 1314
١٣١٤ - حدثنا وكيع وأبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد عن طاوس عن ابن عباس قال: مر رسول اللَّه ﷺ بقبرين، فقال: "إنهما ليعذبان، وما يعذبان في ⦗٢٦١⦘ كبير، أما إحدهما فكان لا (يستتر) (١) من بوله، وأما الآخر فكان يمشي بالنميمة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا کہ انہیں عذاب ہو رہا ہے اور عذاب کسی بڑی بات کی وجہ سے نہیں ہو رہا۔ ایک پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کیا کرتا تھا۔
حدیث نمبر: 1315
١٣١٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور قال: سمعت أبا وائل (يقول) (١): إن أبا موسى كان يشدد في البول فقال: كانت بنو إسرائيل، إذا أصاب أحدهم البول؛ يتبعه (بالمقراض) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ پیشاب کے معاملے میں بہت سختی کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل کے کسی آدمی کے کپڑوں پر جب پیشاب لگ جاتا تھا تو وہ اس حصے کو قینچی سے کاٹ دیتا تھا۔
حدیث نمبر: 1316
١٣١٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا أبو عوانة عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "أكثر عذاب القبر من البول" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قبر کا عذاب اکثر پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 1317
١٣١٧ - حدثنا (يعلى) (١) قال: حدثنا قدامة بن عبد اللَّه العامري قال حدثتني (جسرة) (٢) (قالت) (٣): حدثتني عائشة قالت: دخلت علي امرأة من اليهود، فقالت: إن عذاب القبر من البول، قلت: كذبت، قالت: بلى، إنه ليقرض منه الجلد والثوب، قالت: فخرج رسول اللَّه ﷺ إلى الصلاة، وقد ارتفعت أصواتنا: فقال: "ما هذا؟ " فأخبرته، فقال: "صدقت" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ قبر کا عذاب پیشاب کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔ میں نے کہا تو جھوٹ بولتی ہے۔ وہ بولی میں ٹھیک کہتی ہوں اس کی وجہ سے کپڑے اور کھال کو کاٹا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اتنے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اس دوران ہماری آوازیں بلند ہوچکی تھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ کیا ہے ؟ میں نے آپ کو ساری بات بتائی تو آپ نے فرمایا کہ یہ عورت ٹھیک کہتی ہے۔
حدیث نمبر: 1318
١٣١٨ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأسود بن شيبان قال: حدثنا بحر بن (مرار) (١) عن جده أبي بكرة قال: مر النبي ﷺ بقبرين فقال: "إنهما ليعذبان وما يعذبان في كبير، أما أحدهما فيعذب (في البول) (٢)، وأما الآخر ففي الغيبة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکرہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا کہ انہیں عذاب ہو رہا ہے اور عذاب کسی بڑی چیز کی وجہ سے نہیں ہو رہا بلکہ ایک کو پیشاب کی وجہ سے اور دوسرے کو غیبت کی وجہ سے۔