کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: بیت الخلاء میں یا دورانِ جماع اللہ تعالیٰ کا نام لینا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 1228
١٢٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن (قابوس) (١) عن أبيه عن ابن عباس قال: يكره أن يذكر اللَّه وهو جالس على (الخلاء) (٢) والرجل يواقع امرأته؛ لأنه ذو الجلال يجل عن ذلك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اس بات کو ناپسند سمجھتے تھے کہ کوئی آدمی بیت الخلاء میں بیٹھے ہوئے یا دورانِ جماع اللہ تعالیٰ کا نام لے۔ اس لیے کہ یہ عظمت الٰہی کے خلاف ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1228
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1228، ترقيم محمد عوامة 1227)
حدیث نمبر: 1229
١٢٢٩ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن عطاء قال: لا تشهد الملائكة على خلائك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ فرشتے تمہاری خلا کی جگہ نہیں آتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1229
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1229، ترقيم محمد عوامة 1228)
حدیث نمبر: 1230
١٢٣٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن سيار عن أبي وائل قال: اثنتان لا يذكر اللَّه العبد فيهما: إذا أتى الرجل أهله، يبدأ فيسمي اللَّه، وإذا كان في الخلاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ دو جگہیں ایسی ہیں جہاں بندہ اللہ تعالیٰ کا نام نہ لے۔ ایک جب بیوی سے ہم بستری کرے تو اللہ کے نام سے ابتداء کرے (پھر اللہ کا نام نہ لے) دوسرا جب بیت الخلاء میں ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1230
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1230، ترقيم محمد عوامة 1229)
حدیث نمبر: 1231
١٢٣١ - حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث عن هشام الدستوائي عن حماد عن إبراهيم قال: أربعة لا يقرؤون القرآن: عند الخلاء، وعند الجماع، والجنب، والحائض، إلا الجنب والحائض فإنهما يقرآن الآية ونحوها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ چار لوگ قرآن کی تلاوت نہیں کریں گے : جو بیت الخلاء میں ہو جو جماع کر رہا ہو جنبی حائضہ۔ جنبی اور حائضہ ایک آیت یا اس سے کم پڑھ سکتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1231
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1231، ترقيم محمد عوامة 1230)
حدیث نمبر: 1232
١٢٣٢ - حدثنا وكيع قال حدثنا سفيان عن عطاء (بن أبي مروان) (١) الأسلمي عن أبيه عن كعب قال: قال موسى ﵇ (٢): "أي رب أقريب أنت فأناجيك، أم بعيد فأناديك؟ قال: يا موسى أنا جليس من ذكرني. قال: يا رب فإنا نكون من الحال على حال نعظمك أو نجلك أن نذكرك عليها. قال: وما هي؟ قال: الجنابة والغائط. قال: يا موسى اذكرني على كل حال" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے عرض کیا کہ اے رب تو قریب ہے کہ میں تجھ سے سرگوشی کروں یا تو دور ہے کہ میں تجھے پکاروں ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ ! جو میرا ذکر کرتا ہے میں اس کا ہم نشین ہوتا ہوں۔ موسیٰ نے عرض کیا اے میرے رب ! بعض اوقات ہم ایسی حالت میں ہوتے ہیں جس میں تیرا ذکر تیری عظمت اور تیرے جلال کے منافی ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ کون سی حالت ہے ؟ عرض کیا جنابت اور رفع حاجت کی حالت۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ ! ہر حال میں میرا ذکر کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1232
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1232، ترقيم محمد عوامة 1231)