کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: منقش دراہم کو بیت الخلاء میں ساتھ لے جانا کیسا ہے ؟
حدیث نمبر: 1217
١٢١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية قال: سألت ابن أبي نجيح عن الرجل يدخل الخلاء ومعه الدراهم البيض؟ فقال: كان مجاهد يكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن ابی نجیح سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو بیت الخلاء میں سفید دراہم (چاندی) لے کر داخل ہو تو فرمایا کہ حضرت مجاہد اسے ناپسند سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1217
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1217، ترقيم محمد عوامة 1216)
حدیث نمبر: 1218
١٢١٨ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن قال: كان لا يرى بأسًا أن يدخل (الرجل) (١) الخلاء ومعه الدراهم البيض. قال: وكان القاسم بن محمد يكرهه، ولا يرى بالبيع والشراء (بها) (٢) بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حسن اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ آدمی بیت الخلاء میں سفید ! اس زمانے میں دراہم پر اللہ تعالیٰ کا نام یا کوئی آیت قرآنی لکھی ہوتی تھی، اس لیے اہل علم نے انہیں بیت الخلاء میں ساتھ لے جانے کو مکروہ قرار دیا تھا۔ دراہم لے کر داخل ہو۔ جبکہ قاسم بن محمد بیت الخلاء میں لے جانے کو مکروہ خیال کرتے تھے، جبکہ ان کے ذریعے خریدو فروخت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1218
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1218، ترقيم محمد عوامة 1217)
حدیث نمبر: 1219
١٢١٩ - حدثنا ابن فضيل (١) عن أبيه قال: كان محمد بن عبد الرحمن بن يزيد إذا دخل الخلاء ومعه الدراهم أعطاها إنسانًا يمسكها حتى يتوضأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبدالرحمن نے جب بیت الخلاء میں جانا ہوتا اور ان کے پاس سفید دراہم ہوتے تو کسی کو پکڑا دیتے تھے جو ان کے وضو کرنے تک انہیں تھامے رکھتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1219
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1219، ترقيم محمد عوامة 1218)
حدیث نمبر: 1220
١٢٢٠ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: سألته عن الرجل يبول ومعه الدراهم البيض؟ قال: ليس للناس بد من حفظ أموالهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے سوال کیا کہ ایک آدمی پیشاب کر رہا ہے لیکن اس کے پاس سفید دراہم بھی ہیں، اس کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا لوگوں کے لیے مال کی حفاظت بھی تو ضروری ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1220
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1220، ترقيم محمد عوامة 1219)
حدیث نمبر: 1221
١٢٢١ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: أحب إليّ أن يكون بين جلدي أو كفي وبينهما ثوب.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ رفع حاجت کے دوران دراہم کسی تھیلی میں یا میری جیب میں ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1221
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1221، ترقيم محمد عوامة 1220)